• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 62720

    عنوان: بینک اسلامی قطر نے ایک اسکیم کا اجرا کیا ہے جس کے مطابق بینک آپ کو گھر خرید کر دے گا مخصوص منافع پر یعنی 20000پر ایک لاکھ، مشتری یعنی رقم قسطوں میں بینک کو ادا کرے گا اس میعاد کے اندر اندر جو بینک اور مشتری کے مابین طے ہوچکا ہے، لیکن اگر مشتری نے اس میعاد کے اندر ساری رقم ادا نہیں کی تو بینک گروی رکھنے کا مجاز ہوگاتاوقتیکہ مشتری ٹوٹل رقم بینک کو دیدے ، بینک کسی زیادتی کا مطالبہ نہیں کرتا، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اسطرح کا لین دین جائز ہے کہ نہیں؟

    سوال: بینک اسلامی قطر نے ایک اسکیم کا اجرا کیا ہے جس کے مطابق بینک آپ کو گھر خرید کر دے گا مخصوص منافع پر یعنی 20000پر ایک لاکھ، مشتری یعنی رقم قسطوں میں بینک کو ادا کرے گا اس میعاد کے اندر اندر جو بینک اور مشتری کے مابین طے ہوچکا ہے، لیکن اگر مشتری نے اس میعاد کے اندر ساری رقم ادا نہیں کی تو بینک گروی رکھنے کا مجاز ہوگاتاوقتیکہ مشتری ٹوٹل رقم بینک کو دیدے ، بینک کسی زیادتی کا مطالبہ نہیں کرتا، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اسطرح کا لین دین جائز ہے کہ نہیں؟

    جواب نمبر: 62720

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 320-315/N=4/1437-U صورت مسئولہ میں اگر مشتری متعینہ میعاد کے اندر ساری رقم نہیں ادا کرسکا تو بینک مشتری سے کونسی چیز گروی رکھنے کا مجاز ہوگا؟ آپ نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی؛ لہٰذا اس کی وضاحت فرمائیں، نیز اس اسکیم کی مکمل تفصیل کے لیے آپ بینک کے ڈاکو مینٹس بھی ارسال فرمائیں، اس کے بعد انشاء اللہ آپ کے سوال کا جواب تحریر کیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند