• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 62699

    عنوان: بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا

    سوال: حضرت علامہ مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ کا فتوی کے مطابق بینک میں سیونگ ۔فکس ڈپازٹ و غیرہ میں رقم رکھنا جائز نہیں کرنٹ اکاؤنٹ میں جائز ہے لیکن بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں بہت کڑی شرائط ہے جن میں سے اہم یہ ہے کہ کھاتہ دار کے اکاؤنٹ میں کم از کم پانچ یا دس ہزار روپے رہنے ہی چاہئے اس سے کم پر اکاؤنٹ بند ہو جاتا ہے اور ہر آدمی اتنی بڑی رقم رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ بینک میں رکھنے کا محتاج بھی اور سیونگ اکاؤنٹ میں اس طرح کی تحدید نہیں ہے اور بہت سہولت ہے پس دریافت یہ کہ مذکورہ صورت حال میں سیونگ اکاؤنٹ میی رقم رکھ کر ملنے والے سود کا بلا نیت ثواب تصدق کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 62699

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 167-152/Sn=3/1437-U جی ہاں! مذکور فی السوال صورتِ حال کے پیش نظر بہ غرض حفاظت سیونگ اکاوٴنٹ میں رقم رکھنے کی گنجائش ہے، جو کچھ سود بنے اسے وقتاً فوقتاً نکال کر بلانیت ثواب غریبوں پر صدقہ کردیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند