• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 61915

    عنوان: اگر میں نے کسی سے 200000 میں مینٹینینس(نگہداشت ) کے نام پر گھر لیا اور گھر کے مالک کو بتادیا کہ میں اس کے گھر کو کرایہ پر دوں گا اور وہ کرایہ میں اپنی ذات پر خرچ کروں گا اور گھر کا مالک بھی راضی ہو گیا تو کیا میں ایسا کرسکتاہوں؟

    سوال: اگر میں نے کسی سے 200000 میں مینٹینینس(نگہداشت ) کے نام پر گھر لیا اور گھر کے مالک کو بتادیا کہ میں اس کے گھر کو کرایہ پر دوں گا اور وہ کرایہ میں اپنی ذات پر خرچ کروں گا اور گھر کا مالک بھی راضی ہو گیا تو کیا میں ایسا کرسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 61915

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 890-855/Sn=1/1437-U دو لاکھ میں مینٹیننس پے گھر لینے سے آپ کی مراد کیا ہے، مکمل وضاحت کرکے لکھیں، نیز اگر یہ بھی واضح کریں کہ یہ دو لاکھ روپئے کس حیثیت سے دیئے گئے؟ یہ بعد میں آپ کو واپس ملیں گے یا نہیں؟ مکان کا کچھ کرایہ متعین ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو متعارف کرایہ سے کم یا اس طرح کے مکان کا آپ کے علاقے میں عام طور پر جو کرایہ ہوتا ہے اتنا ہی متعین ہوا؟ ان باتوں کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں، پھر ان شاء اللہ حکم شرعی لکھا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند