• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 609336

    عنوان:

    اگر کوئی کمپنی پیسے لے کر فرار ہوجائے تو کیا اس کی بھرپائی سرکاری بینک کے سود سے ہوسکتی ہے؟

    سوال:

    سوال : زید آج سے چھ سال پہلے کسی یونیورسٹی میں بحیثیت ریسرچ اسکالر منسلک تھا پانچ سال کے دورانیہ میں 30 سے 32 ہزار روپئے ماہانہ کے حساب سے وظیفہ کے بینک کھاتے میں آتے رہے جو بحسبِ ضرورت خرچ ہوتے گئے ، لیکن زید نے ان پیسوں پر بنے سود کا حساب لگانے میں سستی کی یہاں تک کہ پی ایچ ڈی مکمل ہو گئی اور سارے پیسے بھی خرچ ہو گئے ، زید کو جب احساس ہوا تو اس کے پاس پیسے ہی نہیں رہ گئے تھے کہ سود کا حساب لگا کر الگ کرتا، بعد میں حساب لگانے پر پتہ چلا کہ کل ملاکر تقریباً بیس ہزار روپئے سود کے بنتے ہیں۔ ریسرچ کے دوران ایک بار موبائل ٹاور لگوانے کی غرض سے زید نے ایک کمپنی سے رابطہ کیا تھا جس نے بتدریج بارہ ہزار، دس ہزار اور تیس ہزار طلب کئے ، زید نے مطلوبہ رقم کمپنی کو ٹرانسفر کردی تھی، لیکن وہ کمپنی فراڈ نکلی اور پورے باون ہزار روپئے لیکر فرار ہو گئی تھی، کیا اس ضائع ہوگئے پیسے کو سود سمجھ کر زید مطمئن ہوجائے ؟ زید نے بیس ہزار روپئے کسی شخص کو بطورِ قرض کے دے رکھے ہیں لیکن واپس ملنے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے ، زید کے پاس پندرہ بیس ہزار کی قیمت کا ایک زیور ہے جو اسی پی ایچ ڈی میں ملے پیسے سے خریدے تھے ۔ کیا اسے سود سمجھ کر نکال دے ؟؟ زید بہت پش و پیش میں ہے کہ کیا کرے کیا نہ کرے ۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 609336

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 708-547/M=06/1443

     صورت مسئولہ میں مذکورہ کمپنی (جو آپ کے باون ہزار روپئے لے کر فرار ہوگئی) اگر پرائیویٹ تھی تو اس کی ہڑپ کردہ رقم میں آپ کے لیے سرکاری بینک سے حاصل شدہ سودی رقم کی ادائیگی کی نیت کافی نہیں اس سے ذمہ بری نہ ہوگا اسی طرح بطور قرض دی ہوئی رقم میں بھی اس کی نیت درست نہیں، ہاں آپ کے پاس تقریباً بیس ہزار روپئے کا جو زیور ہے اسے سود کی طرف سے بلانیت ثواب نکال سکتے ہیں، اگر زیور کی ضرورت ہے تو دوسری رقم سے نکال سکتے ہیں اگر یکبارگی دشوار ہو تو بتدریج جلد نکال کر ذمہ فارغ کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند