• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 606390

    عنوان:

    میڈیکل انشورنس کرانا

    سوال:

    سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے تعلق سے کہ موجودہ دور میں بیماریاں بالکل عام ہورہی ہیں۔اور اس پر اخراجات بھی اتنا ہورہا ہے کہ اس کو برداشت کرتے ہو ئے اکثر افرادقرض یا سود تک بھی چلے جاتے ہیں۔لہذا ایسی صورت میں ہم اپنے کمپنی کی طرف سے اپنے ملازمین کے لئے میڈیکل انشورنس کرانا چاہ رہے ہیں۔ جس کے لئے ہم اپنے ملازمین کی طرف سے کسی بھی طرح رقم نہیں لے رہے ہیں۔بلکہ خود کمپنی ان کی طرف سے انشورنس کا رقم ادا کرے گی۔ کیا اس طرح ہم اپنے ملازمین کی طرف سے میڈیکل انشورنس ادا کرسکتے ہیں۔نیز یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ ملازمین کی طرف سے میڈیکل انشورنس اگر کمپنی کرائے تو انکم ٹیکس سے چھوٹ ملتا ہے کیا کمپنی اس چھوٹ سے فائدہ اٹھاسکتی ہے ؟برائے مہربانی جواب مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

    جواب نمبر: 606390

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 151-509/M=06/1443

     میڈیکل انشورنس سود اور قمار پر مبنی ہوتا ہے۔ اور سود و قمار دونوں حرام ہیں، اس لیے میڈیکل انشورنس کرنا جائز نہیں؛ البتہ اگر انکم ٹیکس کی شکل میں ایک بڑی رقم چلی جاتی ہو اور انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے میڈیکل انشورنس کرانا ناگزیر ہو تو ایسی مجبوری میں میڈیکل انشورنس کرانے کی گنجائش ہے لیکن سودی رقم سے انتفاع بہرحال ناجائز رہے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند