• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 605999

    عنوان:

    پراپرٹی ٹیکس،انکم ٹیکس اور گاڑیوں کے انشورنس میں سودی رقم دینا

    سوال:

    جناب محترم الحمدللہ میں جانتا ہوں کہ سود لینا ، دینا اور اسے متعلق سارے معاملات شریعت میں حرام ہے گناہ کبیرہ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے مال کی زکوٰة ادا کرت ہیں لیکن ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہ اسلامی ملک نہیں ہے اور نہ ہی شعراء قانون ہیں۔ اس ملک کے اپنے قانون ہیں جسکے مطابق الگ الگ طرحاں کے ٹیکس دینے پڑتے ہیں جسکو دینا ضروری ہے جنمیں پراپرٹی ٹیکس، انکم ٹیکس، گاڑیوں کے انشورنس،اپنے جایز کام کرنے کے لئے سرکاری دفتروں میں رشوت دینا وغیرہ وغیرہ۔ کیا ہم اسمیں بینکوں سے ملنے والے سود سے اس رقم کو ادا کر سکتے ہیں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 605999

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:30-20t/sn=1/1443

     سرکاری بینکوں سے حاصل ہونے والی سودی رقم سے پراپرٹی ٹیکس، انکم ٹیکس ادا کرسکتے ہیں، گاڑیوں کے انشورنس میں (یعنی جتنی رقم کی رسید بنتی ہے، اس میں) بھی سود کی رقم لگاسکتے ہیں بہ شرطے کہ دونوں(بینک اور انشورنس کمپنی) سرکاری ہوں یا دونوں ایک ہی کمپنی کے ہوں، اِن تمام صورتوں میں سودی رقم اس کے اصل مالک کی طرف لوٹانا پایا جاتا ہے جوکہ شرعا مطلوب ہے، افسران کی رشوت میں سودی رقم ادا کرنا شرعا جائز نہیں ہے، اس سے ذمہ فارغ نہ ہوگا ؛ کیوں کہ یہاں مالک کی طرف لوٹانا نہیں پایا جاتا۔

    ....ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ اہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار)9/553، فصل فی البیع،ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند