• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 605911

    عنوان:

    انشورنس کی حقیقت کیا ہے؟

    سوال:

    میرے بہنوئی پانچ سال سے گاڑیوں کا انشورنس کرتے ہیں اب اس کے ذریعہ جو آمدنی ہوتی ہے میری بہن کا نان و نفقہ اور بچوں کے اخراجات اٹھاتے ہیں معلوم یہ کرنا ہے کہ انشورنس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے اگر حرام ہے تو کیا میری بہن کے بطن میں حرام کمائی کے لقمے جارہے ہیں ؟ اب اس کی تلافی کی صورت کیا ہوسکتی ہے نوٹ ۔ بہنوئی انشورنس کا کام کسی کمپنی سے جڑ کر نہیں بلکہ ذاتی طور پر کرتے ہیں یعنی انشورنس کمپنی کی ویب سائٹ سے براہ کرم میرا ذہنی خلجان دور کریں۔

    جواب نمبر: 605911

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 6-24/D=01/1443

     انشورنس کا معاملہ شرعاًسود اور جوے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، اور اس کام میں تعاون کرنا اور اس پر ملنے والی اجرت بھی ناجائز ہے؛ البتہ گاڑیوں کا ضرورت کی وجہ سے تھرڈ پارٹی انشورنس کرانے کی گنجائش ہے اور اِس انشورنس کے کرانے میں تعاون کرنا بھی درست ہے، لہٰذا اس پر ملنے والی اجرت جائز ہے۔ (مستفاد از: جواہر الفقہ: 7/263)

    آپ کے بہنوئی اگر صرف دوسری قسم (تھرڈ پارٹی انشورنس) کرتے ہیں یا دونوں طرح کا انشورنس کرتے ہیں مگر دوسری قسم کی آمدنی غالب اور زیادہ ہے تو بیوی کے لیے یہ آمدنی جائز ہے۔ اور اگر ناجائز انشورنس کی آمدنی دوسری جائز آمدنیوں سے زیادہ ہے تو بیوی کے لئے اس صورت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر بیوی خود اپنے اخراجات اٹھانے کی متحمل ہو تو وہ شوہر کی آمدنی استعمال نہ کرے، لیکن اگربیوی کے پاس اس قدر مال نہیں ہے تو پھر بیوی شوہر سے عین وہی پیسے نہ لیا کرے؛ بلکہ جس چیز کی ضرورت ہو منگوالیا کرے۔ امید ہے کہ اس صورت میں بیوی پر کوئی وبال نہ ہوگا، اور اس کا گناہ شوہر کو ہوگا۔ نیز بیوی کے لیے ضروری ہے کہ شوہر حرام ذریعہ آمدنی سے بچنے کی تلقین کرتی رہے۔

    في ردالمحتار: وفي الخانیة: امرأة زوجہا في أرض الجور إذا أکلت من طعام ولم یکن عینہ غصباً، أو اشتری طعاماً أو کسوةً من مالٍ أصلہ لیس بطیب فہي فی سعة من ذلک والإثم علی الزوج۔ اھ۔ (9/553، ط: زکریا، کتاب الحظر والإباحة / فصل في البیع)

    فی مجمع الأنہر: وفي البزازیة: غالب مال المہدي إن حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ وأکل مالہ مالم یتبین أنہ من حرام، لأن أموال الناس لا یخلو عن حرام فیعتبر الغالب الخ (4/186، ط: فقیہ الأمة، کتاب الکراہیة)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند