• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 604907

    عنوان:

    سرکاری ملاز م کابینک سے قرض کا لینا؟

    سوال:

    کیا یہ بات درست ہے کہ ہندوستان کو دارلحرب قرار دے کر بینک سے لین دین کو علماء امت نے جائز قرار دیا ہے ’اگر ہاں’ تب ایسی صورت میں 1- چونکہ گرانی میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مکان کے کرایوں کی شرح بھی عروج پرہے ’تو ایسی صورت میں ذاتی مکان کے حصول میں کوشش کے لیے پلاٹ یا مکان کی خریدی کے لیے کیا بینک سے قرض حاصل کیا جاسکتا ہے ؟

    -2ایسے ملازمین جن کے ہاں زمین موجود ہو ’ یا جس ذاتی مکان میں وہ رہ رہے ہوں وہ ناقابل رہائش ہویا ناکافی ہو تو ایسی صورت میں کیا وہ تعمیر مکان کے لیے بینک سے قرض حاصل کر سکتے ہیں ؟

    -3 علاوہ اس کے بعض ملازمین کو جس محکمہ میں وہ کارکرد ہیں کی جانب سے بھی نہایت ہی کم شرح سود پر قرض فراہم کیا جاتا ہے یا پھر سرکار کی جانب سے بھی ملازمین سرکار کو نہایت کم شرح سود پر رقم برائے تعمیر یا خریدی مکان عطا کی جاتی ہے ’جس کو ملازم کی تنخواہ سے منہا کر تے ہوئے لوٹانا ہوتا ہے ’ ’کیا مذکورہ بالا سہولت سے وہ استفادہ کر سکتے ہیں ؟

    -4 یہ بات بھی واضح ہے کہ مذکورہ بالا قرض کے حاصل کر نے پر ملازمین سرکار کو انکم ٹیکس کی ادائیگی میں راحت دی جاتی ہے ۔ایسی صورت میں کیا وہ اس سہولت سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 604907

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1053-833/B=12/1442

     حلال و حرام کا حکم تمام مسلمانوں پر لاگو ہے خواہ وہ دارالحرب میں رہتا ہو یا دارالاسلام میں۔ ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا متفقہ فیصلہ کبھی علماء امت نے نہیں دیا نہ ہی بینک سے لینا یہاں کے بینک سے سود لینے کے جائز قرار دیا ہے۔ سود کی حرمت نص قطعی یعنی قرآن پاک سے ثابت ہے۔ قرآن کے خلاف علماء کیسے اس کے جواز کا فتوی دے سکتے ہیں۔

    اس اصول کے جاننے کے بعد آپ کے چاروں سوالات کے جوابات بس ایک ہی ہیں یعنی بینک سے سودی قرض لے کر بینک سے استفادہ کرنا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند