• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 603186

    عنوان:

    مكان بنانے كے لیے سودی قرض لینا؟

    سوال:

    میں ایک سرکاری کرمچاری( ٹیچر) ہوں۔ میرا سالانہ انکم ٹیکس تقریبن ۵۰ہزار روپے جاتا ہے ۔ اگر میں ہوم لون لیتا ہو تو میرا ٹیکس بہت حد تک بچ جائے گا اور لون کئی ایک مشت رقم سے میرا زمین لیکر مکان بنانے کا کام بھی ہو ہوجائے گا۔ اور لون مجھے ۲۰لاکھ کے ۲۵لاکھ دینے ہوں گے ۔ جو کہ قسطوں میں میری تنخواہ میں سے کٹتے رہیں گے ۔ اور میرے پاس کوئی بڑء رقم نہیں جس کے دم پر میں زمین اور مکان بنا سکوں۔ کیا میرا لون لیتا جائز ہوگا یا نہیں؟

    جواب نمبر: 603186

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 710-638/H=07/1442

     صورت مسئولہ میں ہوم لون لینا جائز نہیں۔ بیس لاکھ روپئے قرض لے کر پچیس لاکھ لوٹانے ہوں گے یہ سود ہے کہ جو حرام ہے۔ اگر آپ کے پاس فی الحال بڑی رقم نہیں ہے تو اپنی تنخواہ سے تھوڑی تھوڑی رقم بچاکر بقدر ضرورت مکان بنانے میں سعی کرتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند