• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 603038

    عنوان:

    جواز یا عدم جواز کا حکم تو پہلے پوچھنا چاہیے

    سوال:

    ایک دین دار آدمی کو قرضہ ہوگیا ہے اور اسنے اپنی عزت بچانے کے لیے مجبور ہو کر نہ چاہتے ہوئے بھی بینک سے سودی قرضہ لیاہے اور اسباب مہیا ہونے پر سودی قرض ادا کرنے کی نیت بھی ہے اور روزانہ یہ دعا بھی کرتا ہے کہ اے اللہ میری مجبوری میں سودی قرض میں مبتلا ہوں جب تک ادا نہ ہو تب تک مجھے موت نہ دینا۔اور بغیر سود کے کوئی بھی قرض حسنہ دیتا نہیں ہے ۔ تو کیا ایسی شکل کے مجبور آدمی کا اس طرح بینک سے قرض لیناصحیح ہے ؟

    مفصل پوری وضاحت کے ساتھ جواب کی ضرورت ہے ۔ عین نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 603038

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 573-405/SN=07/1442

     جواز یا عدم جواز کا حکم تو پہلے پوچھنے کا تھا، اب جب کہ سود پر قرض لے لیا ہے تو اب تو یہی چاہئے کہ توبہ و استغفار کرے اور جتنی جلدی ہوسکے قرض ادا کرکے اس عمل گناہ سے اپنے کو الگ کرلے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند