• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 602937

    عنوان:

    حكومت ستائیس لاكھ دے كر ہم سے تیس لاكھ لے گی كیا یہ سود ہے؟

    سوال:

    میں نے پوچھنا تھا کہ جو آج کل حکومت قرضہ گھر کے لیے دے رہی ہے مثلا اگر وہ 27 لاگھ دے رہی ہے تو واپس ہم نے 30 لاگھ دینا ہے تو یہ بھی سود میں آ رہا ہے ؟ کیا اس طرح گھر بننا گناہ ہے ؟

    جواب نمبر: 602937

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 484-445/M=07/1442

     حکومت گھر بنانے کے لئے 27 لاکھ روپئے قرض دے رہی ہے اور لینے والے کو 30 لاکھ روپئے واپس کرنا پڑے گا تو یہ سودی معاملہ ہے، حدیث میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت آئی ہے اس لیے مسلمان کو اس طرح سودی قرض کے لین دین سے بچنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند