• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 601959

    عنوان: ڈالر کو روپیہ کے عوض ادھار بیچنا 

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مذکورہ مسئلہ کے بارے میں. زید عمرو کے ساتھ ڈالر کا معاملہ اس طور پر کرتا ہے کہ ڈالر کی موجودہ بازاری قیمت ۱۶۲روپے ہے ، زید نے عمرو سے کہا کہ آپ مجھے ڈالر ۱۷۰پاکستانی روپیہ کے عوض ایک مہینہ کی مدت تک ادھار دے . کیا اس طرح معاملہ کرنا شرعا درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں تو اس کا متبادل اور صحیح طریقہ کیا ہے ؟

    جواب نمبر: 601959

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 445-386/B=06/1442

     ایک مہینہ کی مدت کے لیے اُدھار لینے کی گنجائش ہے؛ البتہ 170 پاکستانی روپئے کے عوض متعین نہ کرے۔ کیونکہ کرنسیوں کا بھاوٴ ہمیشہ کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے، اسے چاہئے کہ ڈالر میں واپس کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند