• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 601519

    عنوان:

    ڈپازٹ یا سیکوریٹی کے نام پر بڑی رقم دے کر کسی کے مکان میں مفت رہائش کرنا؟

    سوال:

    میں دہلی سے ہوں ، مجھے جاننا ہے کہ کیا سیکوریٹی پر گھر لے سکتا ہوں؟ کیوں کہ میں کرائے پر رہتا ہوں ، میرا اپنا کوئی ذاتی مکان نہیں ہے، کرایہ بہت مہنگا ہے اور مکان ملک کرایہ کم بھی نہیں کرتے بلکہ ہر سال کرایہ بڑھا دیتے ہیں۔

    ۲ - مجھ جیسے بہت سے بھائی کرایہ نہیں دے پاتے اور ان کے پاس اپنا ذاتی مکان خریدنے کے لیے بھی رقم کم ہوتی ہے تو ان کے پاس سیکوریٹی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ شرعی طریقے سے اس کا کوئی حل نکال دیں۔ شکریہ

    جواب نمبر: 601519

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:282-238/N=5/1442

     (۱، ۲): کرایہ دار، ڈپازٹ یا سیکوریٹی کے نام سے مکان مالک کو جو ایک موٹی رقم دیتا ہے، وہ شریعت کی نظر میں قرض ہوتی ہے اور قرض کی بنیاد پر کرایہ دار کا مکان مالک سے کچھ بھی نفع حاصل کرنا بہ حکم سود اور ناجائز ہے؛ لہٰذا ڈپازٹ یا سیکوریٹی کے نام پر بڑی رقم دے کر کسی کے مکان میں مفت رہائش کرنا یا متعارف کرایہ سے کم کرایہ پر کرایہ داری لینا درست نہیں۔ کرایہ داری کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کرایہ پر لیے جانے والے مکان کا جو مناسب ومعقول کرایہ ہو، وہ مکان مالک کو ادا کیا جائے، ڈپازٹ یا سیکوریٹی کے نام پر کوئی رقم دے کر کرایہ میں کوئی کمی نہ کرائی جائے۔ اور جو لوگ ڈپازٹ یا سیکورٹی کے نام سے مکان مالک کو موٹی رقم دے سکتے ہیں، اُن کے لیے عام طور پر مکان کا متعارف کرایہ دینا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ اور اگر کسی کے لیے مشکل ہو تو وہ اپنی آمدنی کے مد نظر رکھ کر کم کرایہ والا مکان تلاش کرے، اپنی حیثیت سے بلند اور معیاری مکان کی فکر میں نہ پڑے۔ اور ماہانہ آمدنی سے ایک مناسب حصہ پس انداز کرتا رہے؛ تاکہ جلد از جلد پلاٹ پھر مکان کا نظم ہوجائے۔

    أنواع الربا،وأما الربا فھو علی ثلاثة أوجہ :أحدھا فی القروض، والثاني فی الدیون، والثالث فی الرھون۔الربا فی القروض فأما فی القروض فھو علی وجھین:أحدھما أن یقرض عشرة دراھم بأحد عشر درھما أو باثني عشر ونحوھا۔والآخر أن یجر إلی نفسہ منفعة بذلک القرض، أو تجر إلیہ وھو أن یبیعہ المستقرض شےئا بأرخص مما یباع أو یوٴجرہ أو یھبہ ……،ولو لم یکن سبب ذلک (ھذا ) القرض لما کان (ذلک)الفعل، فإن ذلک ربا ، وعلی ذلک قول إبراھیم النخعي: کل دین جر منفعة لا خیر فیہ (النتف فی الفتاوی ، ص ۴۸۴، ۴۸۵) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند