• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 601276

    عنوان:

    ماہانہ قرعہ کی فیس لینا کیسا ہے ؟

    سوال:

    کیا فرفاتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کہ زیدایک قرعہ چلارہا ہے جس میں ہر ماہ 10000 دس ہزار روپے ادا کرنہ ہوگا ۱۵تک افراد شامل ہیں 150000 اور قرعہ چلا نے والے ایک ذمے دار مقرر ہیں جو پہلا قرعہ اڑا ئے بغیر سب کی رضامندی سے پہلا قرعہ ذمے دار کے حوالے کر دیا جاتا ہے بقیہ ۱۴قرعہ اسی مہینے اٹھا کر جن جن حضرات کا نام آئے گا ان کا نام لکھ کر ہر مہینہ مکمل 150000 رقم قرعہ کے ذمے دار وہ رقم ان تک پہنچا دیتا ہے یہ قرعہ چلانے والے کی ذمے داری ہے ۔اور ہر ماہ قرعہ کے ذمے دار کو مستقل ۴یہ ۵دن لوگوں سے رقم وصول کر نا اور جن کا قرعہ ہے ان تک مکمل رقم پہنچا نا یہ ایک مستقل محنت رہتی ہے اسلئے قرعہ چلانے والے ذمے دار فیس کے طور پر 500 یہ 1000 لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے ۔

    براہ کرم مفتیان عظام سے درخواست ہیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل عطاء فرمائے اللہ آپ کو دارین کے سعادتوں سے مستفید فرمائے جواب مرحمت فرمائے عین نوازش ہو گی فقط و سلام بندہ حافظ محمد مبارک بنگلور

    جواب نمبر: 601276

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:225-187/N=4/1442

     سوال میں ”بہ ذریعہ قرض امداد باہمی“ کی جو صورت ذکر کی گئی ہے، اس میں اگر قرعے کا نظام چلانے والا ذمہ دار شخص، ہر ماہ اُس شخص سے جس کا نام اُس ماہ قرعہ میں متعین ہوا ہو، اپنی محنت اور دوڑ دھوپ پر متعینہ طور پر پانچ سو یا ہزار روپے لیتا ہے تو اس میں شرعاً کچھ مضائقہ نہیں؛ البتہ ذمہ دار شخص کو چاہیے کہ ہر ممبر سے متعینہ رقم وصول کرکے ساری رقم اُس شخص کے حوالہ کردے، جس کا نام اُس مہینہ کے قرعہ میں متعین ہوا ہے، پھر وہ شخص، ذمہ دار کو اُنہی پیسوں سے اُس کا متعینہ محنتانہ ادا کرے یا اپنے پاس موجود دوسرے پیسوں سے، خلاصہ یہ کہ ممبران سے وصول کردہ رقم سے اجرت کی ادائیگی مشروط نہیں ہونی چاہیے۔

    ھي - الإجارة- تملیک نفع بعوض (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب الإجارة، ۹: ۴، ۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    (ولو دفع غزلا لآخر لینسجہ لہ بنصفہ) أي: بنصف الغزل (أو استأجر بغلا لیحمل طعامہ ببعضہ أو ثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہ) فسدت فی الکل؛ لأنہ استأجرہ بجزء من عملہ، والأصل في ذلک نھیہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قفیز الطحان (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الإجارة، ۹:۷۸، ۷۹)۔ فقط واللّٰہ تعالی أعلم۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند