• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 601242

    عنوان: ہیوی ڈپوزٹ دے کر روم مفت میں لے کر رہنا 

    سوال:

    ہماری شادی کو تین سال سے زیادہ ہوگئے ، اب تک ملازمت نہیں ملی، میں انجینئر ہوں، مگر ملازمت کی وجہ سے پریشان ہوں، سرکاری ملازمت کے لیے تیاری کررہاہوں، امتحان میں پاس ہوجاؤں، دعافرمائیں۔ میں ابھی اپنے سسرال میں ہوں، مجھے یہاں رہنا ٹھیک نہیں لگتا، میری اہلیہ کا کچھ زیور ہے، وہ کہتی ہے کہ اسے بیچ کر ہیوی ڈپوزٹ پر روم لے لیجئے، اور وہیں رہ کر امتحان کی تیاری کیجئے، اور کوئی چھوٹی دکان کھل کر اپنا گھر کا رکچ چلانے کی کوشش کروں گا، کیا میں زیور بیچ کر روم لے لوں؟ جس میں لگ بھگ دیڑھ لاکھ روپئے روم کا لگے گا، کرایہ نہیں لگتا، میں کچھ کرایہ اپنی طرف سے جتنی میری استطاعت ہوگی دیدوں گا، کیا اس طرح روم لے کر رہنا جائز ہوگا؟ مجھے کچھ مشورہ دیجئے تاکہ میرا مسئلہ حل ہوسکے۔

    جواب نمبر: 601242

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 239-198/M=04/1442

     اللہ تعالی آپ کی پریشانی کودور کرے، امتحان میں اعلیٰ نمبرات سے کامیابی عطا کرے اور حلال ذریعہ معاش کا نظم فرمائے (آمین)، ہیوی ڈپوزٹ دے کر روم مفت میں لے کر رہنا درست نہیں، یہ قرض سے نفع کھینچنا ہے حدیث میں اس سے ممانعت وارد ہے، معمولی کرایہ (برائے نام رکھنے) سے بھی احتراز کریں اس میں شبہ ربوا ہے، صحیح اور بے غبار صورت یہ ہے کہ عرفاً اُس جیسے کمرے کا جتنا کرایہ ہوتا ہے اتنا یا اس کے قریب رکھا جائے اور اجارہ ایک معاملہ ہے تو ا س میں کرایہ طے ہونا چاہئے، استطاعت پر موقوف نہیں رہنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند