• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 600012

    عنوان:

    سرکاری پنشن اسکیم ۔۔اٹل پنشن یوجنا

    سوال:

    میں ایک ملازم ہوں ہو جیسا کہ سن دو ہزار چار ۲۰۰۴سے سرکاری نوکریوں میں پینشن ختم کر دی گئی ہے اس کے تحت دو ہزار چار سے سرکاری نوکری کرنے والوں کو کوئی پینشن پرانی طرز بے نہیں ملے گی۔ساتھ ہی ساتھ حکومت نے ایک اٹل پنشن اسکیم نکالی ہے ( Atal Pension Scheme) جس کے تحت ماہانہ تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی جاتی ہے ہے اور ساٹھ سال کے ہونے کے بعد ماہانہ ۵ہزار روپے یا چار ہزار روپے یا تین ہزار روپے ملتے ہیں ہیں ساتھ ہیں جو رقم ہم نے جمع کرائی تھی اس سے سے جو منافع ہوا ہوا وہ بھی ایک مشت ملتا ہے ۔مزید معلومات آپ اس لنک سے دریافت کر سکتے ہیں جو میں شیئر کر رہا ہوں https://www.npscra.nsdl.co.in/scheme-details.php ۔

    برائے مہربانی ی یہ بتائیے کیا یہ اسکیم ہم مسلمانوں کے لیے صحیح ہے کہ ہم اس میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 600012

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 4-3/D=02/1442

     اٹل پینشن اسکیم کے تحت ملازم کی رقم اگر سرکار لازمی طور پر ماہانہ کاٹ لیتی ہے پھر ساٹھ سال کی عمر ہونے کے بعد اپنے مقررہ ضابطہ کے مطابق اسے ماہانہ ادا کرتی ہے تو اس پینشن کی رقم لینے کی گنجائش ہے خواہ پینشن میں مجموعی ملنے والی رقم اپنی جمع کردہ رقم سے زاید ہی کیوں نہ ہو جائے۔

    اور اگر اٹل پینشن میں ملازم اپنے اختیار سے رقم کٹواتا ہے سرکار کی طرف سے لازمی نہیں ہے یا لازمی مقدار سے زاید کٹواتا ہے تو پھر ان جمع کردہ رقم سے زاید لینا اس کے لئے جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ سود کے حکم میں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند