• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 59605

    عنوان: اسلام میں ہیلتھ انشورنس کروانا کیوں منع ہے؟ کل پتا نہیں کیا حادثہ پیش آجائے اور علاج کے لیے پیسہ ہو یا نہ ہو ؟

    سوال: (۱) اسلام میں ہیلتھ انشورنس کروانا کیوں منع ہے؟ کل پتا نہیں کیا حادثہ پیش آجائے اور علاج کے لیے پیسہ ہو یا نہ ہو ؟ (۲) قسطوں پہ بائک، کار،گھر لینا کیوں منع ہے؟ براہ کرم، تسلی بخش جواب دیں۔

    جواب نمبر: 59605

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 998-1047/L=8/1436-U (۱) ہیلتھ انشورنس میں قمار (جوا) کے معنی پائے جاتے ہیں، اس لیے ہیلتھ انشورنس کرانا جائز نہیں؛ مستقبل میں ضرورت کے پیش نظر کچھ رقم بچاکر رکھ سکتے ہیں اس میں مضائقہ نہیں ہے۔ (۲) قسطوں پر بائک، کار، گھر وغیرہ لینا علی الاطلاق منع نہیں ہے، اگر کوئی شخص بایک یا کار کمپنی سے یا بلڈر سے مکان خریدے اور خریدتے وقت قیمت متعین کردے اور پھر خریدار قسطوں پر رقم ادا کردے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ ان اشیاء کی خرید وفروخت بینک کے واسطے سے کرنا جس میں بینک یکمشت رقم ادا کردے اور پھر سود کے ساتھ رقم وصول کرے یہ جائز نہیں اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ سودی معاملہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند