• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 57784

    عنوان: بینک کے کرنٹ اکاونٹ میں(جس پر کوئی سود/ نفع نہیں ہوتا) رکھی ہوئی یہ رقم امانت/ قرض کے طور پر ہوگی اس پر جو مندرجہ بالا لکھی ہوئی سہولیات ہیں کیا یہ سود ہونگی یا یہ سہولیات لینا جائز ہے یا ناجائز ہے ۔

    سوال: گزارش یہ ہے کہ ہمارے ہاں پاکستان میں بعض بینکوں نے ان میں پیسہ جمع کروانے والوں کے لئے کچھ سہولیات کا اعلان کر رکھا ہے ۔ جیسے کہ اُن کو چیک بک مفت ملے گی اور وہ کسی دوسری جگہ کسی کو کچھ رقم بھیجنا چاہے تو بینک اُن سے اس کا کوئی معاوضہ نہیں لے گا۔ جبکہ جس کا اکاونٹ نہ ہو اُس سے رقم بھیجنے کا معاوضہ وصول کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بینک کے کرنٹ اکاونٹ میں(جس پر کوئی سود/ نفع نہیں ہوتا) رکھی ہوئی یہ رقم امانت/ قرض کے طور پر ہوگی اس پر جو مندرجہ بالا لکھی ہوئی سہولیات ہیں کیا یہ سود ہونگی یا یہ سہولیات لینا جائز ہے یا ناجائز ہے ۔ اگر وہ یہ سہولت دے رہے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔ برائے مہربانی تفصیلی جواب دے کر رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں آمین۔

    جواب نمبر: 57784

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 661-644/L=5/1436-U اس رقم کی حیثیت قرض کی ہے؛ کیونکہ بینک والے اس رقم کو اپنے استعمال میں لاتے ہیں اور رقم ضائع ہوجانے کی صورت میں بینک والوں پر اس کا تاوان بھی لازم ہوتا ہے، اور قرض دے کر کسی قسم کا انتفاع اٹھانا سود کے حکم میں ہے، اس لیے ایسی سہولت لینے سے احتراز کرنا چاہیے اگر سہولت سے فائدہ اٹھالیا گیا تو اتنی رقم بینک کو واپس کردی جائے؛ کیونکہ اس میں ربوا یا شبہ ربوا بہرحال موجود ہے جس سے ہمیں بچنے کا حکم ہے دعو الربوا والریبة․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند