• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 57752

    عنوان: ٹیلی ناربیماسکیم اکاونٹ

    سوال: محترم ٹیلی نارکمپنی ہے موبائل وا لاجس نے ایک نیا اسکیم شروع کیا ہے ،جس کو خوشحال بیمہ کا نام کہتے ہے ،اس ا سکیم کے تحت آ پ سے ایزی پیسہ والا اکاونٹ بنوایا جا تا ہے جوکہ وہ ٹیلی ناروالے فری میں فراہم کرتا ہے ،اگر آپ نے اکاونٹ میں ۲۰۰۰روپے سے زیادہ یا ۲۰۰۰ روپے تک کا بیلنس رکھا،تو اپکو روزانہ فری منٹ+فری مسیج+فری انٹرنیٹ دی جا ے گی،یہ فری منٹ اگرآپ نہ چاہتے ہوں تواپکو نہیں دی جاے گی یہ آپ پرانحصار کرتا ہے اورآپ بیلنس بھی محفوظ ہوگا،یہ بیلنس دوسری جگہ منتقل کرنے یا خود آپ کسی بھی وقت استعمال کرسکتے ہو ں بغیر کسی اضافی چارج کے ساتھ۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ اس طر ح اکاونٹ بنانااسلام میں حرام ہے ؟کیونکہ اسلام میں تو بیمہ حرام کے زمرے میں آتا ہے ، مہربانی فرماکر ہماری مدد کریں۔شکریہ

    جواب نمبر: 57752

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 475-685/L=6/1436-U ضرورتاً جس طرح بینک میں رقم رکھنے کی گنجائش ہے اسی طرح اگر ضرورت ہو تو ایزی پیسے والا اکاوٴنٹ بھی بنواسکتے ہیں؛ البتہ اس کی وجہ سے فری منٹ، فری میسیج، فری انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوگا، یہ انتفاع سود کہلائے گا۔ ”کل قرض جرَّ منفعةً حرامٌ“ ============== سوال وجواب کی روشنی میں آئندہ سوال میں یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ اس اکاوٴنٹ بنوانے کا اور کیا فائدہ ہوسکتا ہے جس کے پیش نظر فری میسیج+ فری انٹرنیٹ کے علاوہ اس سے فائدہ حاصل ہوسکے۔ کیا بینک کی طرح نقد رقم جب چاہیں اس سے نکال لیں یا اور کوئی طریقہ انتفاع کا ہے؟ بظاہر اس اکاوٴنٹ کی ایسی ضرورت سمجھ میں نہیں آرہی ہے جس کی بنا پر ضرورةً جواز کی بات کہی جائے، لہٰذا سائل کو اس کی ضرورت کا اظہار بھی کرنا ضروری ہے۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند