• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 55622

    عنوان: کیا انكم ٹیکس سے بچنے کے لیے ہوم لون لینے کی اجازت ہوگی؟

    سوال: (۱) انکم ٹیکس کو سرکار کی طرف سے عائد کردہ ایک ناواجبی ٹیکس کہاگیا ہے، اسی وجہ سے اس میں سرکاری بینکوں سے حاصل شدہ سودی رقم بھرنے کی اجازت دی گئی ہے، (الربا ، صفحہ 287، مئو، عبید اللہ اسعدی صاحب،) اسی طرح اس سے بچنے کے لیے بیمہ کرانا بھی درست ہے؟ (مسائل سود 244) سوال یہ ہے کہ کیا اس ٹیکس سے بچنے کے لیے ہوم لون لینے کی اجازت ہوگی؟اس بار ے میں تین باتیں کہی گئی ہیں: (۱) اس میں مستقل سودی عقد معاوضہ ہے،جب کہ سود لے کر بھرنے والی شکلوں میں ایسا نہیں، (۲) ٹیکس کی بچت کے علاوہ گھرکی خریداری کا مزید نفع لے رہا ہے، جب کہ پہلی صورت میں پیسوں کی قیمت گھٹ جانے کی وجہ سے اسے کچھ نہ کچھ نقصان ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ (۳) اس صورت میں سود دوسروں کو دینا پڑ رہا ہے، جو اسے استعمال کرے گا، جب کہ بیمہ والی شکل میں اس سود کو صدقہ کرکے ہم سود کے استعمال سے بچ سکتے ہیں، مگر بندہ ان باتوں کا یہ جواب دیتاہے کہ : (۱) بیمہ والی شکل میں بھی عقد معاوضہ تو ہے ، لہذا یہاں عقد والی اشکال نہیں ہونا چاہئے ۔ (۲) بیمہ والی شکل میں بھی دو نفع ہے ، ایک ٹیکس کی بچت ، دوسرے بڑی مقدار میں پیسے جمع ہونا ہے۔ (۳) اگر بیمہ والی شکل میں صدقہ کر سکتے ہیں تو یہ غیر وں کے ناجائز مبتلا سے بچنے کے لیے ان کو سود دیا جارہا ہے اور ان کے نزدیک اس کا استعمال جائز ہے لیذا باقاعدہ ․․․یترکون․․․․اور ما یدینون․․․پر اشکال نہیں ہونا چاہئے۔ (۴) مولانا خالد صاحب اورمولانا زید مظاہری صاحب نے اس کی اجازت دی ہے۔ (جدید فقہی تحقیات ، جلد ۲) آں جناب سے درخواست ہے کہ مدلل محاکمہ فرماکر درست مسائل کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 55622

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 159-127/L=3/1436-U

    اصل کے اعتبار سے نہ تو بیمہ کرانا جائز ہے اور نہ ہی ہوم لون لینا جائز ہے کیونکہ اس میں سود وقمار یا کم ازکم سودی معاملہ ضرور کرنا ہوا جو شرعا حرام ہے اور جس پر سخت وعید آئی ہے۔ رہ گیا یہ مسئلہ کہ اکر کسی کے پاس رقم موجود ہو او روہ یکبارگی اس کو بروئے کار لاتا ہے تو اس پر حکومت گرفت کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کو خطیر رقم دینی پڑسکتی ہے، ایسے شخص کے لیے اپنی حلال آمدنی کو بچانے کے لیے یہ راستہ ہوتا ہے کہ وہ بیمہ کرالے یا ہوم لون لے لے۔ کیا ایسا شخص بیمہ کراسکتا ہے یا ہوم لون لے سکتا ہے، احقر کے نزدیک اولاً ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ یہ غور کرے کہ کیا بیمہ کرانے میں اس کو جتنی رقم دینی پڑے گی اگر وہ اتنی ہی رقم سے کوئی تجارت کرلے تو ٹیکس کی تلافی ہوسکتی ہے یا نہیں، اگر اس سے تلافی ہوسکتی ہے گو مکمل نہ ہو اوراس پر حکومت کی طرف سے کوئی گرفت نہ ہو تو یہ طریقہ اختیار کرنا اور بیمہ یا ہوم لون سے بچنا ضروری ہوگا، کیونکہ حرام کے ارتکاب کی اجازت سخت مجبوری میں ہوتی ہے؛ البتہ اگر بیمہ یا ہوم لون کے بغیر چارہ ہی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں اپنی حلال اور جائز رقم بچانے کی نیت سے بیمہ کی طرح ہوم لون کی بھی گنجائش ہوگی۔ جہاں تک ہوم لون لینے کی صورت میں وارد اشکالات کا تعلق ہے تو اسکا جواب آپ نے دیدیا ہے، سودی عقد دونوں میں پائے جاتے ہیں اور نفع بھی دونوں میں ہے، فقہاء نے کسی شخص کو اس شرط پر قرض دینے کو مکروہ لکھا ہے کہ وہ اس سے تھوڑا تھوڑا کرکے لیتا رہے گا اور اس کی علت بقائے مال کو بتایا ہے: وکرہ إقراض أي إعطاء بقال ․․ دراہم․․․ لیأخذ متفرقا منہ بذلک ما شاء․․․ لأنہ قرض جر نفعًا وہو بقاء مالہ (در مختار) وفي الشامي: وکفایتہ للحاجات ولو کان فی یدہ لخرج من ساعتہ (شامي: ۹/۶۶۵) اور ٹیکس سے بچت توہوم لون کی طرح بیمہ میں بھی ہے۔ ======== نوٹ: اس سلسلہ کا ایک فتوی ”انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے لائف انشورنس پالیسی لینے کا حکم“ کے نام سے ”چند اہم عصری مسائل“ میں طبع ہوچکا ہے، اسے بھی ملاحظہ فرمالیں، یہ کتاب مکتبہ دارالعلوم دیوبند سے طبع ہوئی ہے (اور دارالعلوم ویب سائٹ پر آن لائن دستیاب ہے)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند