• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 55304

    عنوان: بینک میں موجود سود کی رقم نکال کر، ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب محتاج کو دینا ضروری ہے

    سوال: (۱) ایک شخص نے بینک سے سود کا پیسہ نکالا اور اپنے ایک عزیز کو یہ کہہ کر دیدیا کہ یہ سود کا پیسہ ہے ، تم کو جس کو چاہو دیدینا ، کیا یہ پیسہ کسی ضرورت مند مسلمان کو دیا جاسکتاہے یا کسی غیر مسلم کو ہی دیا جائے ؟ کس کو دینا مناسب ہوگا ؟ کیا یہ پیسہ دینے والا عزیز گناہ گار ہوگا یا جس نے یہ پیسہ نکالا ہے وہی گناہ گار ہوگا ؟ تفصیلی جواب سے آگاہ فرمائیں۔ (۲) بینک میں جو فکس ڈپوزٹ ہوتاہے ابھی پیسہ ملا نہیں ہے ، کیا اس پر زکاة دینی ہے یا نہیں ؟ اگر ہاں تو پیسے ملنے کے بعد سے سال کی مدت زکاة شمار ہوگی یا جب سے پیسہ جمع کیا ہے وہاں سے ہوگی؟

    جواب نمبر: 55304

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1189-231/D=11/1435-U (۱) بینک میں موجود سود کی رقم نکال کر، ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب محتاج کو دینا ضروری ہے، غیرمسلم کو بھی یہ رقم دی جاسکتی ہے؛ لیکن غریب مسلمان غیرمسلم کے بنسبت زیادہ حق دار ہے، صورت مسئولہ میں سود کی رقم نکالنے والا، اسی طرح اس رقم کو محتاج غریب کو دینا والا دونوں میں سے کوئی گناہ گار نہیں ہوگا۔ (۲) بینک میں فکس ڈپوزٹ رکھی ہوئی رقم اگر نصاب کے بقدر ہے، تو سال گذرنے کے بعد اس پر زکات واجب ہوگی اور پیسے جمع کرنے کے وقت ہی سے سال کی مدت شمار ہوگی؛ البتہ اصل رقم سے زائد سود پر زکات واجب نہیں ہے، اس کو ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب محتاج کو دینا ضروری ہے۔ قال ابن عابدین نقلاً عن النہایة: ویردونھا علی أربابھا إن عرفوھم، وإلا تصدقوا بھا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ (رد المحتار: ۹/۴۷۰، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فيالبیع، ط، دار إحیاء التراث العربي، بیروت) وقال القرطبي: إن سبیل التوبة مما بیدہ من الأموال الحرام إن کانت من ربا فلیردہا علی من أربی علیہ، ویطلبہ إن لم یکن حاضرًا، فإن أیِسَ من وجودہ فلیتصدّق عنہ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی: ۳/۲۴۸، البقرة: ۲۷۶، ط: دار إحیاء التراث العربي، بیروت) وقال البنوري: قال شیخنا: ویُستفادُ من کتب فقہائنا کالہدایة وغیرہ: أن من ملک بملکٍ خبیثٍ، ولم یمکنہ الردُّ إلی المالک، فسبیلہ التصدق علی الفقراء - والظاہرُ أن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغَ ذمتہ ولا یرجو بہ المثوبة، نعم یرجوہا بالعمل بأمر الشارع، وکیف یرجو الثوابَ بمال حرام ویکفیہ أن یخلص منہ کفافًا رأسًا برأس (معارف السنن: ۱/۳۴، أبواب الطہارة، باب ما جاء لا تقبل صلاة بغیر طہور، ط: دار الکتاب، دیوبند) وقال الحصکفي: ”وشرط افتراض أدائہا حولانُ الحول وہو في ملکہ“ قال ابن عابدین: قولہ: ”وہو في ملکہ“ أي والمال أن نصاب المال في ملکہ التام (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/ ۴۴۹، کتاب الزکاة، ط: دار الثفاقة والتراث، دمشق، سوریہ) وقال ابن عابدین نقلاً عن القنیة: لو کان الخبیث نصابًا لا یلزمہ الزکاةُ؛ لأن الکلَّ واجب التصدق علیہ، فلا یفید إیجابُ التصدق ببعضہ - وقال نقلاً عن التتارخانیة عن فتاوی الحجة: من مَلَکَ أموالاً غیر طیبة أو غصَبَ أموالاً وخَلَطَہا ملکہا بالخط ویصیر ضامنًا، وإن لم یکن لہ سواہا نصاب، فلا زکاةَ علیہ فیہا وإن بلغت نصابًا؛ لأنہ بدیون ومال المدیون لا ینعقدُ سببًا لوجوب الزکاة عندنا (رد المحتار: ۵/ ۵۲۵، کتاب الزکاة، باب زکاة الغنم، ط: دار الثقافة والتراث دمشق، سوریہ)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند