• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 54755

    عنوان: میں بینک میں نوکری کرتا ہوں جس کو ایک مدت سے حرام جانتاہوں

    سوال: میں بینک میں نوکری کرتا ہوں جس کو ایک مدت سے حرام جانتاہوں، بہت کوشش کے باوجود اس سے نکل نہیں پایا، آپ سے گذارش ہے کہ مہربانی کرکے میرے حق میں حلال روزگار کے حصول کی خاص دعا فرمائیں اور ساتھ میں کوئی حلال روزگار کے حصول میں آسانی کے لیے کچھ ذکر /معمولات بتائیں۔

    جواب نمبر: 54755

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 33-33/Sn=11/1435-U اگر بینک میں آپ کو سودی معاملات میں براہ راست ملوث ہونا پڑتا ہو مثلاً سودی دستاویزات کی تیاری یا ان کی توثیق وغیرہ تو ایسی ملازمت یقینا ناجائز ہے، جس قدر جلد ممکن ہو آپ اس ملازمت کو چھوڑدیں اور اس بارے میں ہمت سے کام لیں، ہمت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا؛ البتہ اگر بینک کی ملازمت چھوڑنے پر ناقابل برداشت تنگی میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو دوسری جائز ملازمت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں اور جب تک نہ ملے دعا وتوبہ واستغفار کرتے رہیں اور ملتے ہی یہ ملازمت چھوڑدیں، اور رزقِ حلال کے حصول کے لیے روزانہ نمازِ فجر کے بعد پابندی سے ”ماشاء اللہ لا حول ولا قوة الا باللہ، أشہد أن اللہ علی کل شیء قدیر“ (اوراد مومن ۶۶) پڑھا کریں، ان شاء اللہ انتظام ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند