• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 51797

    عنوان: ڈالر کا پاکستانی کرنسی سے مارکیٹ قیمت سے کمی یا زیادتی کے ساتھ نقد یاادھارمعاملہ کرنا جائز ہے

    سوال: ہم امپورٹ کے لیے ڈالر لیتے ہیں قرض پہ، ایک شخص سے جو ڈالر قرض پہ دیتاہے دو یا تین مہینے کے لیے مارکیٹ ریٹ سے نو روپئے زیادہ دیتاہے ، مطلب اگرآج کا ڈالر کا ایکسچینج ریٹ آج 105 روپئے ہیں تو ہمیں 114روپئے پہ دیتا ہے تین مہینوں کے لیے، وہ ہمیں ڈالر دیتا ہے اورہم تین مہینے کے بعد اس کو پاکستانی کرنسی دیتے ہیں اس مقررہ وقت پہ کبھی کبھار وقت بھی گذر جاتاہے اور وہ ہمیں کچھ نہیں کہتاہے کہ وقت پورا ہوگیا ۔ آپ ذرا مہربانی کرکے بتائیں کہ یہ سود پہ آتاتو نہیں؟ اس کے علاوہ مہنگے دام میں ڈالر خرید کر آگے آسان بیچنا کیساہے؟

    جواب نمبر: 51797

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1944-814/H=7/1435-U ڈالر کا پاکستانی کرنسی سے مارکیٹ قیمت سے کمی یا زیادتی کے ساتھ نقد یاادھارمعاملہ کرنا جائز ہے،البتہ ادھار کی صورت میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ طے کرنے میں سود کا شبہ ہے، اس لیے درست نہیں، لہٰذا یا تو نقد معاملہ کریں، یا ادھار کی صورت میں مارکیٹ ریٹ طے کریں۔ وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنی المضموم إلیہ حلّ التفاضل والنساء لوجود العلة وإذا وجد أحدہما وعدم الآخر حل التفاضل وحرم النساء․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند