• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 51705

    عنوان: اگر حکومت کسی قرض پر کوئی چھوٹ بھی دیتی ہو اور اس پر سود بھی عائد کرتی ہو تو اگر چھوٹ کا تناسب سود کے مساوی ہے تو کیا شرعا اس قرض لینے کو جائز کہا جائے گا؟

    سوال: اگر حکومت کسی قرض پر کوئی چھوٹ بھی دیتی ہو اور اس پر سود بھی عائد کرتی ہو تو اگر چھوٹ کا تناسب سود کے مساوی ہے تو کیا شرعا اس قرض لینے کو جائز کہا جائے گا؟

    جواب نمبر: 51705

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 589-391/L=5/1435-U اگر حکومت قرض دے کر کچھ چھوٹ دے کر اس کو وصول کرے تو جب تک اصل قرض کی رقم سے زائد دینا نہ پڑے اس وقت تک سود کی تعریف اس پر صادق نہ آئے گی، اس لیے اگر قرض لینے والے کو ظن غالب ہو کہ وہ اصل قرض کے بقدر رقم پہنچنے سے پہلے پہلے قرض ادا کردے گا تو اس کے لیے قرض لینے کی گنجائش ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند