• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 51114

    عنوان: ہمیں بینک سے سود ملتا ہے اکاوٴنٹ کے پیسے پر اور ہم حکومت کو انکم ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ اور جو سود ہمیں ملتا ہے وہ انکم ٹیکس سے کم ہے۔ کیا تب بھی ہمیں سود الگ نکال دینا چاہیے؟

    سوال: ہمیں بینک سے سود ملتا ہے اکاوٴنٹ کے پیسے پر اور ہم حکومت کو انکم ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ اور جو سود ہمیں ملتا ہے وہ انکم ٹیکس سے کم ہے۔ کیا تب بھی ہمیں سود الگ نکال دینا چاہیے؟

    جواب نمبر: 51114

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 505-544/N=5/1435-U آپ کو کسی سرکاری بینک میں جمع شدہ رقم پر جو سود ملتا ہے آپ وہ انکم ٹیکس میں بھر سکتی ہیں، جائز ہے کیوں کہ انکم ٹیکس شریعتِ اسلام میں کی نظر میں ایک ناواجبی ٹیکس ہے اور اس میں سرکاری بینک سے ملا ہوا سود بھرنا یہ رد الی رب المال کی صورت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند