• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 49906

    عنوان: اسلامی بینک میں جو منافع دیا جاتا ہے وہ سود میں شمار ہوگا یا حلال ہوگا؟ کیوں کہ وہ فتوی بھی پیش کرتے ہیں؟ مگر بعض علماء کہتے ہیں کہ فتوی تو پیش کرتے ہیں مگر نظام سارا سودی ہوتاہے۔

    سوال: اسلامی بینک میں جو منافع دیا جاتا ہے وہ سود میں شمار ہوگا یا حلال ہوگا؟ کیوں کہ وہ فتوی بھی پیش کرتے ہیں؟ مگر بعض علماء کہتے ہیں کہ فتوی تو پیش کرتے ہیں مگر نظام سارا سودی ہوتاہے۔

    جواب نمبر: 49906

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 168-139/H=2/1435-U شریعتِ مطہرہ کے اصولِ صحیحہ کے مطابق اسلامی بینک منافع دیتا ہے تو وہ سود نہیں بلکہ منافع جائز وحلال ہیں، جو فتوی وہ پیش کرتے ہیں غالباً اس میں ثقہ اور معتبر اہل فتوی حضرات نے تجارت کی جائز شکلوں کی طرف رہنمائی کرکے تقسیمِ منافع کی اجازت دی ہوگی، جو علمائے کرام فتوی ملاحظہ فرماکر ارشاد فرماتے ہیں کہ ”مگر نظام سارا سودی ہے“ اُن علمائے کرام کو درحقیقت فتوی کی صحت میں تو کچھ شبہ نہیں البتہ ان کی تحقیق کے اعتبار سے عملاً مذکور فی السوال اسلامی بینک کا نظام سارا سودی ہے تو ایسی صورت میں دارالافتاء سے فتوی حاصل کرکے معاملہ کو حل کرنا بے محل ہے۔ اس کی سہل صورت یہ ہے کہ جو علمائے کرام جانتے ہیں کہ نظام سارا سودی ہے وہ فتوی کو سامنے رکھ کر ذمہ دارانِ اسلامی بینک سے ان کے سودی نظام کو غیرسودی بنانے کی طرف حکمت وبصیرت سے توجہ دلائیں بلکہ دلائل کی روشنی میں طویل طویل گفتگو فرماکر اصلاحی قدم اٹھائیں، رہا معاملہ عامة المسلمین بھائیوں کا سو اُن کو حاکم بن کر فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں، اگر اسلامی بینک کے ذمہ داران بھی علماء ہیں اور جن کو اسلامی بینک کے نظام کے سودی ہونے کی تحقیق ہے وہ بھی علمائے اہل حق ہیں تو دونوں طرف کے علمائے کرام میں سے جن علمائے کرام کے متعلق ان کا دل گواہی دے کہ یہ حضرات متبعِ سنت علمائے صالحین اہلِ تقویٰ میں سے ہیں اور ان کے قول وعمل کے مطابق ہمیں (عامة المسلمین) عمل کرنے میں ان شاء اللہ دنیا وآخرت کی سعادت میسر آئے گی، بس وہ ان ہی علمائے کرام سے دینی رہنمائی حاصل کرکے اپنے دینی ودیناوی معاملات کو انجام دیتے رہیں اور دوسری طرف کے علمائے کرام کے اقوال واعمال کو موضوعِ بحث بنانے سے کلی اجتناب کرتے رہیں، عام مسلمانوں کے حق میں یہ صراطِ مستقیم اور راہِ اعتدال ہے۔ آپ (سائل) اپنے متعلق خود غور فرمالیں کہ آپ عامہٴ مسلمین میں سے ہیں یا علماء میں سے، تفصیل بالا کو ملحوظ رکھ کر اپنے متعلق راہِ عمل مقرر کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند