• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 49747

    عنوان: سونا اور چاندی اجارہ پر دینا کیسا ہے؟

    سوال: سونا اور چاندی اجارہ پر دینا کیسا ہے؟ اس طرح کہ زید آدھا کلو سونا عمرو کو سال بھر دستا ہے کہ عمرو اس کو ہرمہینہ 500 سو روپئے دے، جواز کے لیے کوئی راستہ ہے؟

    جواب نمبر: 49747

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 82-81/N=1/1435-U شاید آپ کے سوال کا منشا یہ ہے کہ زید آدھا کلو سونا یا چاندی عمرو کو ایک سال کی مدت کے لیے بطور قرض اس شرط کے ساتھ دے کہ عمرو زید کو ہرماہ پانچ سو روپیہ بھی ادا کرے پس اگر آپ کے سوال کا حاصل یہی ہے تو یہ معاملہ شرعی اعتبار سے بلاشبہ ناجائز وحرام ہے کیونکہ یہ خالص سودی معاملہ ہے۔ اور اس معاملہ کو اجارہ کا معاملہ قرار دینا ہرگز صحیح نہیں کیونکہ اجارہ استہلاک عین پر نہیں ہوتا بلکہ بقائے عین کی شرط کے ساتھ اس سے انتفاع پر ہوتا ہے، اور اگر آپ کی مراد کچھ اور ہو تو براہ کرم اسے واضح طور پر لکھ کر استفتاء کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند