• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 48268

    عنوان: سودی كاروبار

    سوال: ایک رجسٹرڈ کمیٹی ہے جس کے ذمہ دار تین مسلمان اور ایک ہندو ہیں ، اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی ممبر بنے گا اسے ایک متعین مدت تک متعین رقم جمع کرنا ہوگی ، مدت پوری ہونے کے بعد جمع شدہ رقم اور ساتھ ساتھ تین فیصد رقم ہر ممبر کو دیا جائے گا ۔سوالات یہ ہیں: (۱) کیا اس طرح کی کوئی کمیٹی چلانا جائز ہے؟(۲) مذکورہ تین مسلم ذمہ دار ان اپنے اس عمل کو تجارت بتا کر جائز سمجھتے ہیں ، ان کا یہ عقیدہ کیسا ہے؟ (۳) اگر یہ جائز سمجھتے ہیں تو ان کے ایمان میں کیا فرق پڑے گا؟ (۴) مذکورہ مسلمانوں سے میل ملاپ رکھنا کیسا ہے؟ (۵) جو مسلم اس کے ممبر ہیں انہیں کیا کرنا چاہئے؟ اور اس سے نکالنے کی آسان صورت کیا ہوگی (۶) اس کمیٹی سے حاصل شدہ رقم کو کسی بھی جائز کاموں میں خرچ کرنا کسیا ہے؟ امت کا ایک بڑا طبقہ کچھ لوگوں کی وجہ سے اس گناہ عظیم میں پھنسا ہوا ہے ، براہ کرم، اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 48268

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1556-1552/N=1/1435-U (۱) کاروبار میں نفع کی مقدار روپے کی شکل میں متعین نہیں ہوتی ہے، جب کہ یہاں متعین ہے کیونکہ ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کا تین فیصد دیا جاتا ہے اس لیے اس طرح کی کمیٹی چلانا جائز نہیں، یہ درحقیقت سودی قرض کی صورت ہے۔ (۲) ان سے معلوم کیا جائے کہ وہ ممبران سے پیسے لے کر کس چیز کی تجارت کرتے ہیں؟ تجارت میں ہمیشہ نفع نہیں ہوتا، کبھی نقصان بھی ہوتا ہے، اس کے متعلق ممبران سے کیا طے کرتے ہیں؟ یعنی ہرممبر نفع کی طرح نقصان میں بھی شریک ہوتا ہے یا نہیں؟ اور فیصد کا تعین منافع کے حساب سے ہوتا ہے تو وہ جمع کردہ رقم سے تناسب کیوں قائم کرتے ہیں؟ (۳) جو شخص کسی ناجائز کام کو جائز سمجھے اسے ہمدردی وخیرخواہی کے ساتھ صحیح بات بتادی جائے۔ (۴) اگر وہ لوگ اس کا ناجائز ہونا جان لینے کے باوجود اس سے باز نہ آئیں تو ان سے میل جول ختم کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ اس ناجائز کام سے باز آجائیں۔ (۵) ان کو صحیح مسئلہ بتاکر حکمت عملی کے ساتھ اس سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (۶) ہرممبر کو تین فیصد جو زائد رقم ملی ہو یا ملے وہ کمیٹی والوں کو ہی واپس کردے، ہرگز اپنے استعمال میں نہ لائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند