• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 43416

    عنوان: سودی قرض

    سوال: (۱) میں نے اپنے استاذ سے کسی کام کے لیے لون لیا ہے مگر میں لون ادا کرنے پر قابل نہیں تھا ، اب میں ان کو پیسے واپس کرنا چاہتاہوں(لون ۱۰۰۰۰ روپئے تھا ،سوال یہ ہے کہ اب میں 2012 میں کتنا ادا کروں؟) (۲) کچھ سال پہلے میں نے ایک دکان سے کچھ سامان خریدا تھا اور جب میں پیسے ادا کرنا چاہا تو دکاندار دکان چھوڑ کر چلاگیا۔ سوال یہ ہے کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟ (۳) میں نے کچھ رشوت لیا تھا، اب میں کیسے اپنے گناہوں کو کم کروں؟جو لوگ زندہ ہیں میں ان کو پیسے واپس کرسکتاہوں مگر جن کا انتقال ہوگیا ہے یا میرا ان سے کوئی ربطہ نہیں ہے تومجھے اس بارے میں کیا کرنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 43416

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 223-223/M=3/1434 (۱) استاذ سے جتنا قرض لیا تھا اتنا واپس کردیں یعنی 10000 روپئے، اگر وہ زیادتی کا مطالبہ کریں تو کہہ دیں کہ زیادتی سود ہے جو شریعت اسلام میں ناجائز ہے، اور اگر وہ زیادتی پر مجبور کریں یا لون لیتے وقت سود کے ساتھ واپسی کا معاملہ طے کرلیا تھا تو طے شدہ سود کے ساتھ قض ادا کرکے جلد ذمہ فارغ کرلیں اور سودی لین دین پر توبہ واستغفار بھی کریں۔ (۲) ہرممکن اس دوکاندار کا پتہ لگائیں، اگر مالک یا اس کے ورثہ میں سے کسی کا پتہ نہ چل پائے اور ناامیدی ہوجائے تو اتنی رقم غریب کو صدقہ کردیں۔ (۳) اس کا حکم بھی نمبر (۲) کے مثل ہے یعنی جن سے رشوت لی ہے ان کا یا ان کے ورثہ کا پتہ نہ لگ سکے تو اتنی رقم صدقہ کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند