• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 391

    عنوان:

    میں انگلینڈ میں رہتا ہوں اور میرا سوال کریڈٹ کارڈ کے بارے میں ہے۔ یہاں بہت ساری کمپنیاں ہیں جو بارہ مہینے لون پر زیرو فیصد سود پر کریڈٹ کارڈ دیتی ہیں۔ ہمیں ایک اگریمنٹ پیپر پر دستخط کرنا پڑتی ہے کہ اگر ہم قرض کی پوری مقدار کو ایک سال میں ادا کرنے پر قادرنہیں ہوئے تو ہم سود ادا کریں گے۔ وہ تین فیصد دیکھ بھال کا چارج لگاتے ہیں۔ اس لون کووقت پر ادا کرنے کے لیے اور سود کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ہم بارہ ماہ کا ا سود سے خالی دوسرا کریڈٹ کارڈ لے لیتے ہیں۔ کیا ان کریڈٹ کارڈوں کو استعمال کرنا درست ہے؟

    سوال:

    میں انگلینڈ میں رہتا ہوں اور میرا سوال کریڈٹ کارڈ کے بارے میں ہے۔ یہاں بہت ساری کمپنیاں ہیں جو بارہ مہینے لون پر زیرو فیصد سود پر کریڈٹ کارڈ دیتی ہیں۔ ہمیں ایک اگریمنٹ پیپر پر دستخط کرنا پڑتی ہے کہ اگر ہم قرض کی پوری مقدار کو ایک سال میں ادا کرنے پر قادرنہیں ہوئے تو ہم سود ادا کریں گے۔ وہ تین فیصد دیکھ بھال کا چارج لگاتے ہیں۔ اس لون کووقت پر ادا کرنے کے لیے اور سود کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ہم بارہ ماہ کا ا سود سے خالی دوسرا کریڈٹ کارڈ لے لیتے ہیں۔ کیا ان کریڈٹ کارڈوں کو استعمال کرنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 391

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 92/د=90/د)

     

    کریڈٹ کارڈ خریدنا اور اس کا استعمال کرنا اس صورت میں جب کہ آپ کا اکاوٴنٹ کھلا ہوا ہے اور اس میں پیسے موجود ہیں اور کارڈ جاری کرنے والا ادارہ آپ کے اکاوٴنٹ میں سے اپنا قرض وصول کرلے جائز ہے۔

     

    اور اگر اکاوٴنٹ میں پیسے نہیں ہیں تو کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کی انتہائی احتیاط کی جائے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا کردی جائے تاکہ اس پر سود لاگو نہ ہوسکے۔ کیوں گہ اس پر سود کا ادا کرنا قطعی طور پر حرام ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند