• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 37515

    عنوان: شیئر مارکیٹ میں ملازمت کرنا

    سوال: کیا شیئر مارکیٹ میں ملازمت کرنا اور شیئرز خرید کر انویسٹمنٹ کرنا جائز ہے؟ دونوں کی شرعی حیثیت سے آگاہ فرمائیں۔

    جواب نمبر: 37515

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 400=326-4/1433 شیئر مارکیٹ میں خریداری وفروختگی کا موجودہ طریقہ کار چل رہا ہے کہ آج شیر خریدا اور کل کو اسے اچھے نفع کے ساتھ فروخت کردیا تو یہ دراصل پیسوں کے بدلے میں پیسے زیادہ خریدے یہ کھلا ہوا سود ہے، شریعت اسلام میں زَر کو زَر سے کمانا حرام قرار دیا گیا ہے، زر سے زر کمانا اس وقت جائز قرار دیا ہے جب کہ وہ زر کسی جائز کاروبار میں لگائے اور چھ مہینے سال بھر تک اس میں محنت کی جائے اور دماغ لڑایا جائے، اس کے بعد جو نفع ہو وہ لیے جائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند