• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 33413

    عنوان: غریب کو سود دیاجائے توکیا یہ ان کے لیے حلال ہے ؟

    سوال: (۱) غریب کو سود دیاجائے توکیا یہ ان کے لیے حلال ہے ؟ (۲) جس پر زکاۃ واجب ہے تو کیا اس کو سود کی رقم دی جاسکتی ہے؟صرف اس لیے کہ ابھی اس کا بزنس ڈائون ہوگیاہے۔ (۳) کیا بینک لون کی ادائیگی کے لیے سودی رقم دی جاسکتی ہے؟

    جواب نمبر: 33413

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1192=994-8/1432 (۱) ایسی رقم غریبوں پر تصدق کرنے کو شریعت نے جائز رکھا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے لیے جائز وحلال ہے۔ (۲) جی نہیں، اس کو زکاۃ کی رقم دینا جائز نہیں۔ (۳) سود کی رقم سود سے ادا کرسکتے ہیں، حرام مال جہاں سے آیا ہے وہیں پہنچ جائے تو اچھا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند