• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 24566

    عنوان: ایک شخص نے لائف (زندگی) اور میڈیکل انشورنس کرایا ، 25000/ ہزارروپئے کی قسطوں سے ، تین سال بعد اس کو کوئی بیماری ہوگئی جس کا ذکر اس پالیسی میں تھا تو اس کو اسے دعوے کے حساب سے پیسے مل گئے ، کیا یہ پیسے جائز ہیں؟ یا اگر وہ شخص ان پیسوں سے کاروبار کرتاہے تو اس کے ساتھ اپنے پیسے لگا کر اور محنت کرکے اس کے ساتھ کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟براہ کرم، تفصیل سے بتائیں۔

    سوال: ایک شخص نے لائف (زندگی) اور میڈیکل انشورنس کرایا ، 25000/ ہزارروپئے کی قسطوں سے ، تین سال بعد اس کو کوئی بیماری ہوگئی جس کا ذکر اس پالیسی میں تھا تو اس کو اسے دعوے کے حساب سے پیسے مل گئے ، کیا یہ پیسے جائز ہیں؟ یا اگر وہ شخص ان پیسوں سے کاروبار کرتاہے تو اس کے ساتھ اپنے پیسے لگا کر اور محنت کرکے اس کے ساتھ کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟براہ کرم، تفصیل سے بتائیں۔

    جواب نمبر: 24566

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1719=1350-10/1431

    لائف اور میڈیکل انشورنس کرانا جائز نہیں۔ یہ قمار اور جوے کی شکل ہے جو شرعاً حرام ہے۔ جو پیسے ملے ہیں اس میں سے اپنی جمع کردہ رقم نکال کر مابقیہ رقم کا بلانیت ثواب غریبوں اور محتاجوں پر صدقہ کرنا واجب ہے، اس سے اپنا کاروبار کرنا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند