• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 1874

    عنوان:

    کیا ہم مسجدکیبیت الخلا ء بنانے کے لیے بینک انٹریسٹ کا استعمال کرسکتے ہیں؟ (۲) کیا ہم مسجد کے بیت الخلا ء کی مرمت کے لیے بینک انٹریسٹ کا استعمال کرسکتے ہیں؟ (۳) کیا ہم مسجد کیبیت الخلا ء باقی رکھنے کے لیے بینک انٹریسٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ؟ جبکہ بیت الخلاء مسجد کے احاطے میں ہو۔

    سوال:

    (۱)کیا ہم مسجدکیبیت الخلا ء بنانے کے لیے بینک انٹریسٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ؟

    (۲) کیا ہم مسجد کے بیت الخلا ء کی مرمت کے لیے بینک انٹریسٹ کا استعمال کرسکتے ہیں؟

    (۳کیاہم مسجد کیبیت الخلا ء باقی رکھنے کے لیے بینک انٹریسٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ؟ جبکہ بیت الخلاء مسجد کے احاطے میں ہو۔

    جواب نمبر: 1874

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 597/ م= 592/ م

     

    بینک انٹریسٹ کی رقم کو مسجد کے بیت الخلاء کی تعمیر و مرمت یا اس کو باقی رکھنے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں، سودی رقم مال خبیث ہے اس سے کسی قسم کا انتفاع ناجائز ہے۔ ایسے مال کا حکم یہ ہے کہ بلانیت ثواب غریب مفلوک الحال لوگوں پر صدقہ کردیا جائے کما في الشامي: لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الردّ علی صاحبہ


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند