• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 172147

    عنوان: سونے کی ادھار خرید وفروخت کا حکم

    سوال: جناب سونے کو ادھار فروخت کرنا یا خریدنا اور مستقل طور پر سونے کا ادھار کاروبار کرنا کیسا ہے اور اس کی کوء شرائط اور شرعی گنجائش ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 172147

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:989-886/N=1/1441

    (۱، ۲): روپے پیسے یا کسی بھی ملک کی کرنسی کے عوض سونے کی کبھی کبھار یا مستقل طور پر ادھار خرید وفروخت جائز ہے، بہ شرطیکہ خریدے ہوئے سونے پر مجلس عقد ہی میں مشتری کا قبضہ ہوجائے۔ اور اگر روپے پیسے یا کسی بھی کرنسی کے ساتھ سونا بھی ادھار ہو تو یہ جائز نہیں؛ کیوں کہ روپے پیسے یا کسی بھی ملک کی کرنسی کا سونے کے ساتھ تبادلہ راجح ومفتی بہ قول کے مطابق بیع صرف نہیں ہے؛ کیوں کہ کرنسی ثمن خلقی نہیں ہے ؛ بلکہ فلوس کی طرح ثمن اعتباری ہے ؛بلکہ آج کل کی کرنسیوں کا ثمن اعتباری ہونا زیادہ واضح ہے ؛کیوں کہ ان کی ذاتی قدر وقیمت فلوس سے بھی کم ہوتی ہے ،انھیں ثمن بنانے والی چیز اصطلاح واعتبار کے سوا کچھ نہیں ہے۔اور فلوس کے بارے میں فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ ان کا باہم تبادلہ یا ان کا سونے چاندی کے ساتھ تبادلہ بیع صرف نہیں ہے؛ لہٰذا کرنسی کا سونے، چاندی کے ساتھ تبادلہ بھی بیع صرف نہ ہوگا، پس جب یہ تبادلہ بیع صرف نہیں ہے تو ان کا باہم ادھار تبادلہ بھی جائز ہوگا، البتہ مجلس عقد میں کسی ایک عوض پر قبضہ لازم ہوگا؛ تاکہ بیع الکالیٴ بالکالیٴ لازم نہ آئے۔

    نوٹ:۔ سوال کا جواب اس تقدیر پر ہے کہ سونے کی ادھار خرید وفروخت مقصود کے طور پر ہو۔ اور اگر سونے کی ادھار خرید وفروخت سود کے لیے حیلہ کے طور پر ہوتو آپ کا یہ سوال نامکمل ہے ، ایسی صورت میں سودی معاملہ اور حیلہ دونوں کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کیا جائے۔

    وقید بالذھب والفضة لأنہ لو باع فضة بفلوس أو ذھبا بفلوس فإنہ یشترط قبض أحد البدلین قبل الافتراق لا قبضھما کذا فی الذخیرة وقدمناہ عند قولہ في باب الربا: ”وصح بیع الفلس بالفلسین “(البحر الرائق ۶: ۳۲۴عن الذخیرة، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، تتمة في أحکام الفلوس: فی المحیط: لو باع الفلوس بالفلوس أو بالدراھم أو بالدنانیر فنقد أحدھما دون الآخر جاز، وإن افترقا لا عن قبض أحدھما جاز (المصدر السابق، ص ۲۱۹، ۲۲۰)، قولہ: وإن افترقا لا عن قبض أحدھما جاز“ قال الرملي: صوابہ: لا یجوز (منحة الخالق علی البحر الرائق)، ومثلہ فی الدر المختار (مع رد المحتار ۷: ۴۱۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وسئل الحانوتي عن بیع الذھب بالفلوس نسیئة، فأجاب بأنہ یجوز إذا قبض أحد البدلین لما فی البزازیة: لو اشتری مائة فلس بدرھم یکفي التقابض من أحد الجانبین الخ (رد المحتار ۷: ۴۱۴)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند