• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 165170

    عنوان: کیا پرائیویٹ بینک کی انٹریسٹ کی رقم انکم ٹیکس کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟

    سوال: میں ایک پرائیویٹ دوا ساز کمپنی میں ملازم ہوں۔ ہماری تنخواہ ٹیکس کٹ ہوکر ملتی ہے۔ میرے چند سوالات ہیں۔ (۱) کیا ہم بینک کے انٹریسٹ کی رقم، انکم ٹیکس کے بدلے میں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں؟ کیونکہ ٹیکس پہلے ہی کٹ ہو جاتا ہے، تو انٹریسٹ کے پیسے سے ٹیکس بھرنا ممکن نہیں۔ (۲) کیا کوئی پرائیویٹ بینک کی انٹریسٹ کی رقم انکم ٹیکس کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟ جب کہ ٹیکس پہلے ہی کٹ نہ ہوا ہو؟ (۳) کیا سرکاری بینک میں رکھی فکس ڈپوزٹ پر آنے والی انٹریسٹ کی رقم ہم اپنے پاس انکم ٹیکس کے بدلے رکھ سکتے ہیں؟ جو پہلے ہی کٹ ہو چکا ہے؟ (۴) کیا ہم اپنی باہری انکم سرکار کو بتائے بنا ٹیکس کو بچا سکتے ہیں؟ جیسے کچھ انویسٹمنٹ کیا ہو جو سرکار کی جانکاری میں نہیں۔ (۵) کیا انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے جھوٹی سرٹیفکیٹ ، جیسے رینٹل (کرایہ) ، یا میڈیکل استعمال کر سکتے ہیں؟ (۶) کیا بزنس والے اپنا بزنس کم بتاکر ٹیکس بھرنے سے بچ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 165170

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 34-26T/SN=4/1440

    (۱) اگر انٹریسٹ کی رقم سرکاری بینک سے حاصل کردہ ہے تو رکھ سکتے ہیں۔ (امداد المفتین، ص:۷۰۶، احسن: ۷/۲۱ ) ۔

    (۲) نہیں۔

    (۳) رکھ سکتے ہیں، گنجائش ہے؛ البتہ یہ بات واضح رہے کہ بلاضرورت شرعی رقم فکسڈ ڈپازٹ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

    (۴، ۵، ۶) حکومت کی طرف سے عائد کردہ غیر شرعی ٹیکسوں سے اپنے کو بچانے کے لئے اگر اس طرح کی کوئی تدبیر اختیار کرلیں تو آپ گنہگار نہ ہوں گے؛ البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر اس میں قانونی گرفت اور رسوائی وغیرہ کا اندیشہ ہو تو پھر احتیاط کرنی چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند