• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 162674

    عنوان: ہاوٴس ٹیکس میں سرکاری بینک کا انٹرسٹ بھرنے کا حکم

    سوال: ہمارے یہاں سرکار کی طرف سے ہاؤس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جس میں کہ ہاؤس ٹیکس علیحدہ ہوتا ہے اور صفائی اور پانی بجلی اور دیگر سہولیات کا ٹیکس علیحدہ ہوتا ہے ۔ گھر تو ہماری اپنی ملکیت ہے اس پر کیسا ٹیکس؟ یہ تو ایک طرح کی زیادتی ہی ہوئی نا تو کیا بینک سے ملنے والی انٹرسٹ کی رقم کو ہاؤس ٹیکس کی ادائیگی کیلے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 162674

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1142-1171/N=1/1440

    ہاوٴس ٹیکس، یعنی: پراپرٹی ٹیکس حکومت اس وجہ سے وصول کرتی ہے کہ حکومت کی نظر میں زمین کا ظاہری مالک، حقیقت میں مالک نہیں ہوتا، وہ صرف قابض ہوتا ہے، مالک حکومت ہوتی ہے؛ اس لیے حکومت ، پراپرٹی سے نفع اٹھانے کی بنیاد پر پراپرٹی قابض سے ٹیکس وصول کرتی ہے؛ لیکن شرعی نقطہ نظر سے مالک حکومت نہیں ہے؛ اس لیے یہ پراپرٹی ٹیکس، غیر شرعی ٹیکس ہے، اس کی ادائیگی میں سرکاری بینک کا انٹرسٹ استعمال کیاجاسکتا ہے۔ اور اگر کسی جگہ ہاوٴس ٹیکس کے بل میں صفائی وغیرہ کا ٹیکس بھی شامل ہو، جو شریعت کی نظر میں جائز ٹیکس ہے تو صرف پراپرٹی ٹیکس کے بہ قدر انٹرسٹ کی رقم بھرنا درست ہوگا، دوسرے جائز ٹیکسس میں نہیں۔

    ویبرأ بردھا ولو بغیر علم المالک، فی البزازیة:غصب دراہم إنسان من کیسہ، ثم ردہا فیہ بلا علمہ برئ، وکذا لو سلمہ إلیہ بجہة أخریٰ کہبة وإیداع وشراء، وکذا لو أطعمہ فأکلہ،…،زیلعي (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الغصب، ۹: ۲۶۶، ۲۶۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند