• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 16232

    عنوان:

    آ پ نے فتوی آئی ڈی 10826میں انکم ٹیکس بچانے کے لیے لائف انشورنس کو غلط بتاتے ہوئے کہا ہے کہ لائف انشورنس میں ملوث ہونے کا گناہ ملے گا جب کہ آپ سود کی رقم بنا ثواب کی نیت کے غریب کو دیتے ہیں۔ جب کہ فتوی آئی ڈی 13718میں انکم ٹیکس بچانے کے لیے لائف انشورنس کروا سکتے ہیں، جب کہ آپ اس کے سود کی رقم غریب کو دیں۔ مہربانی کرکے دونو ں فتووں کی وضاحت تفصیل سے فرمائیں کہ لائف انشورنس، انکم ٹیکس بچانے کے لیے لینے پر اور اس سود کی رقم غریب اور مسکین کو دینے کے بعد بھی کیا لائف انشورنس لینے کا گناہ ہوگا؟

    سوال:

    آ پ نے فتوی آئی ڈی 10826میں انکم ٹیکس بچانے کے لیے لائف انشورنس کو غلط بتاتے ہوئے کہا ہے کہ لائف انشورنس میں ملوث ہونے کا گناہ ملے گا جب کہ آپ سود کی رقم بنا ثواب کی نیت کے غریب کو دیتے ہیں۔ جب کہ فتوی آئی ڈی 13718میں انکم ٹیکس بچانے کے لیے لائف انشورنس کروا سکتے ہیں، جب کہ آپ اس کے سود کی رقم غریب کو دیں۔ مہربانی کرکے دونو ں فتووں کی وضاحت تفصیل سے فرمائیں کہ لائف انشورنس، انکم ٹیکس بچانے کے لیے لینے پر اور اس سود کی رقم غریب اور مسکین کو دینے کے بعد بھی کیا لائف انشورنس لینے کا گناہ ہوگا؟

    جواب نمبر: 16232

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):1680=1530-11/1430

     

    فی نفسہ لائف انشورنس کرانا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اس پالیسی میں سود وقمار دونوں پائے جاتے ہیں، اگر صرف انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے آپ نے لائف انشورنس کرایا اور اس سے حاصل شدہ سودی رقم کو غریبوں پر صدقہ کرنے کی نیت سے کرایا تو امید ہے کہ آپ لائف انشورنس کے گناہ سے بچ جائیں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند