• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 156426

    عنوان: کیا سود کو خریدی گئی اشیاء پر زائد رقم تصور کرنا جائز ہے ؟

    سوال: ایک پرائیویٹ شخص ہے جو لون دینے کیلئے تیار ہے لیکن اسلامی طریقہ سے نہیں اور مجھے سخت ضرورت بھی ہے ، کیا میں اس سے قرض لوں اور رقم خود لینے کی بجائے اس رقم کو کسی سونے کا کاروبار کرنے والے کو دلوا دوں اور اس سے سونا لے لوں۔ اسے 2 سے 3 دن بعد فروخت کردوں گا۔ 5 سال کی مدت کیلئے اس سے لون لوں گا اور 5 سال کا حساب لگاکر جتنا سود ہوگا، اسے یہ تصور کرلوں گا کہ جو سود کی رقم زیادہ گئی وہ سونا خریدنے پر زائد گئی، کیا اس طرح سے سود پر قرض لینا جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 156426

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 214-462/N=5/1439

    سوال میں قرض لینے کی جو صورت ذکر کی گئی ہے، اس کا حاصل میں نے یہ سمجھا کہ صورت مسئولہ میں قرض دہندہ سے قرض لینے والے آپ ہوں گے اور سنار قرض کی رقم پر قبضہ آ پ کی جانب سے وکالتاً کرے گا اور آپ قرض دہندہ کو اس کا قرض اضافہ کے ساتھ واپس کریں گے اور سنار سے سونے کی خرید وفروخت کا معاملہ آپ اپنے لیے کریں گے، قرض دہندہ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا، پس اگر قرض لینے کی صورت یہی ہے تو یہ شرعاً یہ سودی قرض ہی کی صورت ہے اور آپ نے اپنے طور پر جو حیلہ سوچا ہے، اس سے سودی قرض کی حقیقت میں کچھ تبدیلی نہیں ہوتی؛ لہٰذا یہ حیلہ غیر مفید ہے، اس کی وجہ سے سوال میں مذکور سودی قرض ناجائز وحرام سے جائز نہ ہوگا؛

    البتہ آپ نے لکھا: مجھے قرض کی سخت ضرورت ہے ، اگر آپ سخت ضرورت کی وضاحت فرمائیں توضرورت کے نقطہ نظر سے سودی قرض کی گنجائش ہونے، نہ ہونے پر غور کیا جاسکتا ہے، ممکن ہے کہ آپ کی ضرورت سودی قرض کے جواز میں معتبر ہو۔

    قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربوا الآیة (البقرة: ۲۷۵)،عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷: ۳۹۸- ۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند