• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 15564

    عنوان:

    میں گھر کے لیے لون لے رہا ہوں، وہ مجھے ایک لاکھ پر دس ہزار روپیہ کاروائی فیس کے ساتھ واپس کرنے پڑیں گے جو کہ قسطوں پر تقسیم ہوں گے۔ میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ کاروائی فیس کے جو یہ دس ہزار روپئے وصول کئے جارہے ہیں، سود میں شامل ہوں گے؟ جب کہ میں آٹھ لاکھ لون لے رہا ہوں تو دو لاکھ مجھے کارروائی فیس کے ساتھ دس لاکھ واپس کرنے ہیں ماہانہ قسطوں میں؟

    سوال:

    میں گھر کے لیے لون لے رہا ہوں، وہ مجھے ایک لاکھ پر دس ہزار روپیہ کاروائی فیس کے ساتھ واپس کرنے پڑیں گے جو کہ قسطوں پر تقسیم ہوں گے۔ میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ کاروائی فیس کے جو یہ دس ہزار روپئے وصول کئے جارہے ہیں، سود میں شامل ہوں گے؟ جب کہ میں آٹھ لاکھ لون لے رہا ہوں تو دو لاکھ مجھے کارروائی فیس کے ساتھ دس لاکھ واپس کرنے ہیں ماہانہ قسطوں میں؟

    جواب نمبر: 15564

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1594=1314/1430/د

     

    جی ہاں زائد رقم سود کہلائے گی، جس کا لینا اور ادا کرنا دونوں حرام ہیں، خواہ سود کے نام سے ادا کیا جائے یا کارروائی فیس کے نام سے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند