• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 155256

    عنوان: سودی رقم کس جگہ خرچ کرسکتے ہیں؟

    سوال: بینک، انشورنس یا دیگر ادارے کا اپنے مال سے زائد رقم کا ادا کرنا سود ہے۔ (۱) ہم سرکار کو جو ٹیکس دیتے ہیں چاہے وہ اِنکم ٹیکس یا جی ایس ٹی یا سیل ٹیکس یا اور دیگر ٹیکس کی شکل میں ہو، کیا اس رقم کی ادائیگی کے لیے سود کی رقم استعمال کر سکتے ہیں؟ (۲) سودی رقم کا استعمال ہم کس جگہ کر سکتے ہیں؟ (۳) ایک شخص جو کہ سید ہے اور بہت ہی غریب ہے، ذریعہ معاش کی کمی کی وجہ سے بیٹی کی شادی میں بہت زیادہ دشواری ہو رہی ہے، تو اس صورت میں جو زکات یا سودی رقم لینے کے مستحق ہیں ایسے شخص سے بلا کسی دباوٴ کے زکات یا سودی رقم کو تملیک کرکے اس (سید) شخص کو ادا کرنا کیسا ہے؟ (۴) تملیک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

    جواب نمبر: 155256

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 86-5/M=1/1439

    (۱) انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس دونوں غیر واجبی ہیں ان کی ادائیگی میں سودی رقم دے سکتے ہیں، جی، ایس، ٹی کی پوری وضاحت اور دیگر ٹیکسوں کی مراد واضح کرکے سوال کریں۔

    (۲) سودی رقم بینک سے نکال کر بلانیت ثواب فقراء کو دیدیں، اسے اپنے مصرف میں خرچ کرنا جائز نہیں، سرکار کی طرف سے عائد کردہ غیر واجبی و غیر شرعی ٹیکسوں کی ادائیگی میں دینے کی گنجائش ہے جیسا کہ نمبر (ا) کے تحت لکھاگیا۔

    (۳، ۴) اگر مستحق زکاة شخص زکاة یا سودہ رقم لینے کے بعد بخوشی اپنی مرضی سے بلا کسی دباوٴ کے وہ سید کو دیدے تو سید لے سکتا ہے لیکن رسمی تملیک (ظاہری ہیرا پھیری) مفید حلت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند