• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 152485

    عنوان: بینک کے سودی پیسہ کا طریقہ استعمال

    سوال: کیا میں بینک سیونگ اکاوٴنٹ سے ملے سود کے پیسوں کا استعمال ٹیکس اور غریبوں کے علاوہ کسی اور جگہ کر سکتا ہوں؟ یا میں اپنے کسی کام میں سودی پیسوں کا استعمال کر سکتا ہوں؟ کیونکہ ایک سال میں ملی سودی رقم چار ہزار روپئے میرے بہت کام آسکتے ہیں۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں تاکہ ان پیسوں کا استعمال میں صحیح جگہ کر سکوں۔

    جواب نمبر: 152485

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 915-748/D=9/1438

    اپنے کسی کام میں سودی پیسوں کا استعمال جائز نہیں ہے، بینک سے ملنے والے سود کو غیر واجبی ٹیکس مثلاً انکم ٹیکس وغیرہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے، نہ کہ واجبی ٹیکس مثلاً ہاوٴس ٹیکس میں۔ اسی طرح بلانیت ثواب غربا کو دے دیں۔

    باقی ٹیکس اور غربا کے علاوہ دوسری جگہ سے مراد آپ کی کیا ہے، اُسے واضح کریں؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند