• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 149197

    عنوان: انکم ٹیکس میں ادا کی گئی رقم کے برابر بدلے میں اپنے اکاوٴنٹ کا سود استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

    سوال: (۱) ابھی حال ہی مجھے معلوم ہوا ہے کہ سود سے انکم ٹیکس ادا کیا جاسکتاہے، میں تقریباً ایک لاکھ روپئے ٹیکس ادا کرتاہوں جو میرے تنخواہ سے وضع ہوجاتے ہیں، نیشنل بینک میں میری نوکری کے دس سال کا سود جمع ہے، تو جیسا کہ ٹیکس پہلے ہی وضع ہوجاتاہے تو کیا میں ٹیکس اور سود کا حساب کرکے آج کی تاریخ تک جتنے پیسے ٹیکس میں وضع ہوئے ہیں اتنے ہی پیسے سود میں سے اپنے ذاتی استعمال میں خرچ کرسکتاہوں؟اور (۲) کیا یہ حکم غیر نیشنل بینک پر لاگو ہوگا؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 149197

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 491-462/N=6/1438

    (۱): جی ہاں! آپ انکم ٹیکس کے بہ قدر سرکاری بینک کا سود ذاتی استعمال میں لاسکتے ہیں، گنجائش ہے (امداد المفتین ص ۷۰۶، سوال: ۷۴۳، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)، مستفاد: فإذا ظفر بمال مدیونہ لہ الأخذ دیانة؛ بل لہ الأخذ من خلاف الجنس (رد المحتار، کتاب السرقة، مطلب في أخذ الدائن من مال مدیونہ من خلاف جنسہ، ۶: ۱۵۷،ط : مکتبة زکریا دیوبند)۔

    اور اگر آپ دس سال کا سارا سود بلا نیت ثواب غربا ومساکین کو دیدیں تو یہ زیادہ اچھا ہے : ایک تو اس وجہ سے کہ اس میں غریبوں کا فائدہ ہوگا۔ دوسرے یہ کہ انکم ٹیکس میں سود کی رقم بھرنے کا مسئلہ اکابر کے درمیان مختلف فیہ ہے اگرچہ راجح گنجائش کا قول ہے۔

    (۲):جی ! نہیں، صرف سرکاری بینک کا سود انکم ٹیکس میں بھرا جاسکتا ہے یا وضع شدہ انکم ٹیکس کے بہ قدر ذاتی استعمال میں لایا جاسکتا ہے، پرائیویٹ (غیر نیشنل) بینک کا سود انکم ٹیکس میں بھرنا یا وضع شدہ انکم ٹیکس کے بہ قدر ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ؛ کیوں کہ سرکاری بینک کا سود ذاتی استعمال میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے انکم ٹیکس کے نام سے ناجائز طور پر آپ کی جو حلال رقم لی، آپ نے دوسرے راستہ سے وہ رقم حکومت سے وصول کرلی اور پرائیویٹ بینک میں یہ واپس لینے کا مفہوم نہیں پایا جاتا ؛ کیوں کہ انکم ٹیکس حکومت لیتی ہے ، انکم ٹیکس کسی پرائیویٹ بینک یا پرائیویٹ ادارے کو نہیں جاتا۔ ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ ، فصل فی البیع ،۹: ۵۵۳،ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ویبرأ بردھا ولو بغیر علم المالک، فی البزازیة:غصب دراہم إنسان من کیسہ، ثم ردہا فیہ بلا علمہ برئ، وکذا لو سلمہ إلیہ بجہة أخریٰ کہبة وإیداع وشراء، وکذا لو أطعمہ فأکلہ،…،زیلعي (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الغصب، ۹: ۲۶۶، ۲۶۹) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند