• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 148646

    عنوان: انشورنس کی رقم ٹیکس کے برابر ہوتو

    سوال: میں ایک کالج میں پڑھتا ہوں جس میں تنخواہ پر اِن کم ٹیکس بھی دیتا ہوں۔ جیسا کہ آپ کی ویب سائٹ پر فتوی موجود ہے کہ اِن کم ٹیکس بچانے کے لیے اِنشورنس کرا سکتے ہیں لیکن آخر میں زائد رقم استعمال میں نہیں لاسکتے، اسی کے تعلق سے میرا سوال ہے کہ:۔ فرض کریں ، بغیر اِنشورنس کے مجھے 40000 ٹیکس بھرنا پڑتا ہے اور اگر میں اِنشورنس کرالوں جوکہ پانچ لاکھ روپئے دس سال میں بھرنا ہے جس کے کچھ premium (منافع) ہیں، اور منافع کی وجہ سے مجھے آسانی ہوتی ہے جیسے مجھے ہر سال 40000 ٹیکس بجائے 20000 بھرنا پڑے گا، مطلب پورا ٹیکس ختم نہیں ہوا بلکہ کم ہوا۔ یا سمجھیں ،کہ میں نے اِنشورنس کرا لیا جس میں مجھے دس سال میں پانچ لاکھ بھرنے پر پندرہ سال بعد بیس لاکھ ملیں گے۔ تو اِنشورنس کی پندرہ لاکھ رقم مجھے زائد ملی ہے لیکن ساتھ ساتھ میں نے ان بیس سال میں دس لاکھ رقم ٹیکس بھرا ہے، تو کیا مجھے پورے پندرہ لاکھ جو زائد رقم اِنشورنس کی ملی ہے صدقہ کرنا پڑے گا؟ یا صرف پانچ لاکھ رقم صدقہ کرنی پڑے گی؟ کیونکہ میں نے دس لاکھ ٹیکس بھی بھرا ہے۔

    جواب نمبر: 148646

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 416-332/D=5/1438

    اِنشورنس سود قمار پر مشتمل ہوتا ہے جس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے، لہٰذا اِنشورنس کرانا حرام ہے البتہ اپنی جائز کمائی کو انکم ٹیکس سے بچانے کے لیے انشورنس کرانے کی گنجائش دی گئی ہے بشرطیکہ جب رقم ملے گی تو زائد رقم کو بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، نیز اس مدت میں سودی معاملہ کے ساتھ جڑے رہنے کی وجہ سے توبہ واستغفار کرتے رہنا چاہئے، جہاں تک اپنی رقم سے انکم ٹیکس ادا کرنے اور اس کے بدلے بعد میں ملنے والی سودی رقم اپنے استعمال میں لانے کا تعلق ہے تو سودی رقم سے انکم ٹیکس ادا کرنے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ سودی رقم براہ راست ادا کریں، اپنی رقم سے ادا کرکے اس کے بدلے سودی رقم نہ لیں۔ تاہم اگر اپنی رقم سے ادا کرتے وقت سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنے کی نیت کرلے اور اس کے بقدر رقم سودی رقم سے منہا کرلے تو بھی گنجائش ہے۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند