• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 14196

    عنوان:

    میرے کچھ فکس ڈپوزٹ بینک میں ہیں۔ میں اس کے سود کی رقم کسی غریب کو دینا چاہ رہا ہوں۔ میں کسی غریب کو یہ پیسہ دے سکتاہوں، یا پھر کیا میں مدرسہ میں بھی یہ پیسہ دے سکتاہوں، یا پھر میں یہ پیسہ کسی بیمار کو جو غریب ہے دے سکتاہوں؟ یا پھر یہ بتائیں کہ کیا میں یہ پیسہ اپنی بہن کی شادی وغیرہ پر خرچ کرسکتاہوں؟ یا پھر اس کا جائز خیراتی استعمال یا پھر اپنے لیے جائز استعمال کیا ہوسکتا ہے، بتائیں؟

    سوال:

    میرے کچھ فکس ڈپوزٹ بینک میں ہیں۔ میں اس کے سود کی رقم کسی غریب کو دینا چاہ رہا ہوں۔ میں کسی غریب کو یہ پیسہ دے سکتاہوں، یا پھر کیا میں مدرسہ میں بھی یہ پیسہ دے سکتاہوں، یا پھر میں یہ پیسہ کسی بیمار کو جو غریب ہے دے سکتاہوں؟ یا پھر یہ بتائیں کہ کیا میں یہ پیسہ اپنی بہن کی شادی وغیرہ پر خرچ کرسکتاہوں؟ یا پھر اس کا جائز خیراتی استعمال یا پھر اپنے لیے جائز استعمال کیا ہوسکتا ہے، بتائیں؟

    جواب نمبر: 14196

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1131=1070/ب

     

    سود کی رقم حاصل کرنے کے لیے بینک میں روپیہ جمع کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر جمع کردیا ہے تو اس پر ملنے والی سود کی رقم کو بینک میں نہ چھوڑیں بلکہ اس کو نکال کر غرباء ومساکین پر بلانیت ثواب صدقہ کردیں، اور یہ صدقہ کرنا واجب وضروری ہے، اس رقم کو مدرسہ میں یا بہن کی شادی میں یا رفاہی کاموں میں یا اپنے استعمال میں صرف کرنا جائز نہیں: لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق (شامي)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند