• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 12592

    عنوان:

    میں پاکستان کا رہنے والا ہوں اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، پاکستان میں بطور ایگزیٹیو آفیسر کے، گریڈ 17میں نوکری کرتا ہوں، یہ مارکیٹنگ نوکری نہیں ہے کہ اس میں لوگوں کو انشورنس پالیسی خریدنے کے لیے تیار کرنا پڑتا ہوبلکہ یہ ایک دفتری نوکری ہے۔ برائے کرم مجھے بتائیں کہ کیا اسلامی اصول اور قانون کی روشنی میں یہ نوکری حلال ہے یا حرام ہے؟

    سوال:

    میں پاکستان کا رہنے والا ہوں اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، پاکستان میں بطور ایگزیٹیو آفیسر کے، گریڈ 17میں نوکری کرتا ہوں، یہ مارکیٹنگ نوکری نہیں ہے کہ اس میں لوگوں کو انشورنس پالیسی خریدنے کے لیے تیار کرنا پڑتا ہوبلکہ یہ ایک دفتری نوکری ہے۔ برائے کرم مجھے بتائیں کہ کیا اسلامی اصول اور قانون کی روشنی میں یہ نوکری حلال ہے یا حرام ہے؟

    جواب نمبر: 12592

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 906=762/د

     

    لائف انشورنس میں سود وقمار دونوں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کی حرمت نص قرآنی سے ثابت ہے، اس لیے اس کا کرنا کرانا دونوں ناجائز ہوا، اسی طرح اس معاملہ کی لکھا پڑھی کرنا اس میں گواہ بننا، حساب کتاب بنانا بھی ناجائز وحرام ہوا، حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے سود کھانے والے، اس کے کھلانے والے، اس کا حساب کتاب لکھنے والے، اور اس معاملہ کا گواہ بننے والے پر نیز ارشاد فرمایا کہ گناہ میں سب برابر کے شریک ہیں۔ (مشکاة: ۱/۲۴۴)

    ان امور مذکورہ کے علاوہ آپ سے کوئی اور کام متعلق ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند