• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 607048

    عنوان:

    قرآنی آیات سے میلاد مروجہ کے جواز کی اثبات کی سعی لا حاصل

    سوال:

    جناب والا پاکستان سے محمد امان عرض گزار ہوں۔ سوال وہی ہے جو عموما لوگ ماہ ربیع الاول میں پوچھا کرتے ہیں، کہ ۱۲ ربیع الاول کو میلاد منانا کیسا، لیکن اس میں مزید آپ سے گزارش یہ کرونگا کہ اول تو جواب میں قرآن و حدیث کے حوالہ جات مطلوب ہیں، دوم یہ کہ میلاد کہ نام پر کی جانے والی خرافات پر حکم نہیں بلکہ فی نفسہ میلاد کے شرعی حکم پر کلام کا ملتمس ہوں، ورنہ آج کل خرافات تو اگر یہ کہا جاے کہ میلاد سے زیادہ نکاح میں ہوتے ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا لیکن اس بنیاد پر نکاح نفس الامر میں ناجایز نہیں ہو جاتا۔ سوم عرض یہ یہ ہے کہ زید یہ دعوہ کرتا ہے کہ میلاد کا مستحب ہونا قرآن سے ثابت ہے ، اور اس پر ذیل کلام پیش کرتا ہے : احکام کے کچھ درجات ہیں، جیسے فرض اور اسکے مقابل حرام، واجب اور اس کے مقابل مکروہِ تحریمی وغیرہ، جوازِ عمل کا ادنیٰ درجہ اباحت یعنی مباح ہونا ہے ، اور یاد رکھیں کہ "الاصل فی الاشیاء الاباحة" ہر شے میں اصل اباحت یعنی جائز ہونا ہے ، لقولہ تعالی: ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وہی ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا (البقرہ: ۲۹) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مُباح و حلال ہے ۔(تفسیر روح المعانی، البقرة، تحت الآیة: ۲۹، ۱ / ۲۹۱) یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسَْلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ-وَ اِنْ تَسَْلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ-عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا-وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم انہیں اس وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تم پروہ چیزیں ظاہر کردی جائیں گی اور اللہ ان کو معاف کرچکا ہے اور اللہ بخشنے والا ،حلم والا ہے ۔ (سور المائدہ :۱۰۱) ان آیاتِ قرآنی سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ میلاد سے چونکہ منع نہیں کیا گیا، لہذا یہ مباح یعنی جائز ہے ۔ اب سورہ والضحی کی آیت ۱۱ ملاحظہ ہو: وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ(۱۱) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ آیتِ مذکورہ میں "حدِّث" صیغہ امر ہے ، اور امر کا ادنی درجہ ندب یعنی مستحب ہونا ہے ۔ اس آیت میں "نعمة" سے خصوصِ سبب سے قطع نظر عمومِ لفظ مراد لیا جائے تو آقائے دو جہاں ﷺ سے بڑھ کر انعام کیا ہو سکتا ہے ، کما قال تعالٰی: لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا (آل عمران ۱۶۴) ان آیات کی تطبیق سے معلوم ہوا کہ آقائے دوجہاں سب سے بڑی نعمت ہیں اور نعمت کا چرچا کرنا باعث ثواب ہے ۔ دوسری جگہ ہے قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا-ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸) تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے ، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔ (یونس: ۵۸) اس آیت میں بھی "فلیفرحو" صیغہ امر ہے ، جو کم از کم ندب پر دلالت کرتا ہے ، اور یہاں پر اللّٰہ کے فضل و رحمت پر خوشی منانے کا حکم ہے ، چنانچہ فضل اور رحمت میں مفسرین کے چند اقوال ہیں ۱- بعض علماء نے فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت قرآنِ کریم۔ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : “وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا”(نساء ۱۱۳) ترجمہٴکنزُالعِرفان: اور آپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے ۔ ۲- بعض نے فرمایا :اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل قرآن ہے اور رحمت حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : “وَ مَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ”(انبیاء:۱۰۷) ترجمہٴکنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔ ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کا اس دنیا میں تشریف لانا اللّٰہ کا سب سے بڑا فضل و احسان ہے اور اس پر خوشی منانا خود حکمِ رحمٰن ہے ۔ لہذا میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نیک نیتی کے ساتھ محافلِ ذکرِ خدا و مصطفی ﷺ کا انعقاد کرنا، چراغہ کرنا، بڑھ چڑھ کر مسلمانوں کو کھانا کھلانا اور تحائف تقسیم کرنا اور دیگر اعمالِ خیر کا کم از کم مستحب ہونا قرآن سے ثابت ہوا۔

    مندرجہ بالا زید کے دلایل پر بھی کلام فرماییں اور قرآنی دلایل کے مقابل قرآنی دلایل ہی زیادہ واضح و موٓثر ہونگے کما تعلم- نینو توٓجرو۔

    جواب نمبر: 607048

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:28-27T/H-Mulhaqa=5/1443

     میلاد مروجہ اہل السنة والجماعة کے نزدیک بدعت ہے، اس پر اہل حق علما کی طرف سے اب تک بہت سے فتاوی اور رسائل لکھے جاچکے ہیں، اور زید کے حوالہ سے قرآن کریم میں ذاتی اجتہاد کے ذریعہ مروجہ میلاد کے اثبات کی جو سعی لاحاصل کی گئی ہے، وہ قرآنی آیات کو ایسے خود ساختہ معانی پہنانے پر مبنی ہے، جو صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین وغیرہم میں سے کسی نے نہیں سمجھے، اور اگر مان لیا جائے کہ حضرات صحابہ کرام وغیرہم کے نزدیک بھی یہی معانی تھے تو ان کی طرف سے اجتماعی طور پر ایک لمبے عرصہ تک قولاً اور فعلاً اس مستحب کو نظر انداز کرنے کا کیا مطلب؟ اور بہ طور مثال عرض ہے کہ ”فلیفرحوا“کا ترجمہ سوال نامے میں یہ کیا گیا کہ ”خوشی منانی چاہیے“ ؛ جب کہ صحیح ترجمہ ”خوش ہوناچاہیے“ہے، اور خوش ہونا اور چیز ہے اور خوشی منانا اور چیز ہے، اور اس خوشی کے لیے جو ۱۲/ ربیع الاول کی تخصیص کی گئی ہے، یہ آیات میں اضافہ کردہ مفہوم کے سوا کچھ نہیں اور مزید بر آں یہ ہے کہ ۱۲/ ربیع الاول کا تاریخ ولادت ہونا محقق وراجح قول نہیں ہے، محقق وراجح قول ۸یا ۹/ ربیع الاول کا ہے، پھر براہ راست قرآنی آیات سے استدلال مجتہدین کا کام ہے، ہم جیسوں (اجتہاد کی شرائط سے عاری لوگوں)کا کام نہیں ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند