• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 605556

    عنوان:

    شادی كے موقع پر بھات كی رسم كا مطالبہ كرنا؟

    سوال:

    ایک آدمی( عمر تقریبا 72 سال )کے دو لڑکے دو لڑکیاں ہیں وہ پیشے سے ریٹائرڈ ٹیچر ہیں سرکار کی طرف سے پینشن آتی ہے - وہ بیمار رہتے ہیں- وہ اپنی جائیداد اور ملکیت کی تقسیم کیسے کریں? (1) ریٹائرڈ ٹیچر کی بڑی بیٹی کے تین لڑکے ایک لڑکی ہے لڑکی تیسرے نمبر کی ہے جس کی شادی کی تیاری ہے بڑے دو لڑکوں کی بھی شادی نہیں ہوئی ہے - اس شادی کے لئے ریٹائرڈ ٹیچر ایک مکان بیچ کر اس شادی میں تین سے پانچ لاکھ روپے کا بھات دینا چاہتے ہیں جو بیٹی یا اس کے خاندان والوں کی طرف سے ڈیمانڈ بھی ہے جبکہ بیٹی کے شوہر اور بچوں کی زمین جائیداد بھی ہے اور وہ صحت یاب بھی ہیں- کیا تقسیم سے پہلے یہ جائز ہے ? باقی اس بڑی بیٹی کے تین بیٹوں کی شادی میں بھات دینے کا کیا معمول رہے گا? ریٹائرڈ ٹیچر صاحب کے دونوں بیٹے شادی شدہ اور بچوں والے ہیں-ان کو اپنے بیٹوں سے اس طرح کے کاموں میں مشورہ لینا چاہیے یا نہیں لینا چاہیے ? جب کہ بیٹوں اور باپ کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی تنازعہ بھی نہیں ہے - اور بیٹے چاہتے ہیں کہ کام مشورہ سے ہو- (2) ریٹائرڈ ٹیچر کی چھوٹی بیٹی کے دو لڑکے دو لڑکیاں ہیں بڑی لڑکی ہے جس کی شادی میں تقریبا 7 سے آٹھ سال ہیں-ریٹائرڈ ٹیچر کی چھوٹی لڑکی اپنے بھائیوں یا ماں باپ سے اس طرح کی بھات میں ڈیمانڈ کرے یا نہ کرے لیکن جب بڑی بیٹی کی لڑکی کی شادی میں جس طرح کا بھات دیا جائے گا تو چھوٹی بیٹی کی لڑکی کی شادی میں بھی اسی طرح سے ہی بھات دینا پڑے گا نہیں تو حق تلفی ہوگی تو اس کے لیے کیا حکم ہے ? (3) ریٹائر ٹیچر کا ان کی لڑکیوں کے بچوں کی شادی میں بھات دینے کا معمول اس طرح رہے تو ان کے دو بیٹوں کے بچوں کی شادی میں ان کا کیا معمول ہونا چاہیے وضاحت کے ساتھ بیان کریں عنایت ہوگی? (4) ریٹائرڈ ٹیچر صاحب کی تقریبا 70 سے 75 سال کی عمر ہے اور طبیعت بھی خراب رہتی ہے اس لئے جائیداد اور ملکیت کی پہلے اولاد میں تقسیم کریں یا ان کی اولاد کے بچوں کی شادی مذکورہ بالا طریقے سے کریں یا وہ اپنے آپ میں میں خود مختار ہیں جو کریں ? (5) ریٹائرڈ ٹیچر کے انتقال کے بعد جائیداد اور ملکیت کی تقسیم نہیں ہوتی ہے تو اس کے بیٹوں کا اپنی بہنوں کے ساتھ میں کیا عمل رہے گا اور اگر تقسیم ہو جاتی ہے تو ان کے بیٹوں کا اپنی بہنوں کے ساتھ میں کیا عمل رہے گا قرآن اور حدیث کی روشنی میں بیان کیجیئے ۔

    جواب نمبر: 605556

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1128-294T/D=12/1442

     (۱) بھات دینا ہندوانی رسم ہے، شادی کے موقعہ پر اس طرح کی رسموں سے احتراز کرنا چاہئے لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے اس کا مطالبہ کیا جانا بہت مذموم ہے ایسی رسموں کو معاشرہ سے ختم کرنا چاہئے شادی سادہ طریقہ پر کرنا چاہئے جس میں رسوم و رواج کی پابندی نہ ہو۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے برکت والا نکاح وہ ہے جس میں اخراجات (بوجھ) کم سے کم ہو۔

    (۲، ۳) جب شروع ہی سے بے جا قسم کی رسموں سے احتراز کیا جائے گا تو آگے مسائل نہیں پیدا ہوں گے ورنہ آگے آدمی کیسے نباہے گا اور کیا حالات ہوں گے یہ بات پہلے سے نہیں لکھی جاسکتی۔

    (۴) اولاد میں تقسیم کرنا تو ضروری نہیں؛ البتہ کسی اولاد یا اس کے بچہ کو کچھ دیں تو دوسرے کو بھی اسی قدر دیں ورنہ انصاف کے خلاف ہوگا اور آخرت میں بازپرس ہوگی۔

    (۵) انتقال کے وقت جو کچھ ان کی ملکیت میں ہوگا وہ ان کے ورثا شرعی کے درمیان حصص شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔ اس وقت (انتقال کے بعد) تفصیل لکھ کر حکم معلوم کرلیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند