• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 603929

    عنوان:

    دوكان وغیرہ كے افتتاح كے لیے اجتماعی ذکر بالجہر كرنا

    سوال:

    مفتیان کرام چند روز قبل میں نے نیچے مذکور سوال بھیجا تھا الحمدللہ آپ لوگوں نے اسکا جواب دیا،لیکن اس جواب سے مجھے تسلی نہیں ہوئی،کیونکہ آپ نے مطلقاً یہ کہدیا کہ یہ چیز ثابت نہیں ہے ،لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ جائز ہیکہ نہیں،کیونکہ ہر غیر ثابت ناجائز نہیں ہوتا،مختصر یہ ہیکہ اجتماعی ذکر بالجہر تصوف کے علاوہ کسی اور واسطے جائز ہیکہ نہیں؟ پہلے کیا گیا سوال جواب کاپی کرکے پیش خدمت ہے ۔ سوال: اگر کوئی شخص بلاو مصیبت سے حفاظت کے لیے یا نئی دوکان یا مکان کے افتتاح کے لیئے چند آدمی کو ذکر کرنے کے لیے دعوت کرتاہے ،اور وہ لوگ بالجہر اجتماعی ذکر کریں،یعنی ایک شخص لاالہ الااللہ کہکرشروع کرتاہے اور اس کے بعدباقی لوگ لاالہ الااللہ کا ذکر شروع کرتے ہیں،اور پانچ سات منٹ تک سب لوگ ایک ساتھ ذکرکرتے ہیں،پھر دوبارہ پہلے والا شخص کسی دوسرا ذکر مثلاً اللہ یا الااللہ شروع کرتاہے ،اور باقی لوگ پانچ سات منٹ یہ والا ذکر کرتے ہیں،اسی طرح چار پانچ ذکر کرتے ہیں اور آخر میں دعاء ہوتی ہے ، اور کھانے پینے کا انتظام بھی ہوتا ہے ،تو کیا اس طرح کا ذکر شریعت کی رو سے جائز ہے ؟ جبکہ اجتماعی بالجہر ذکر کو علمائنے قلب کی صفائی کے لیے اور قرب الٰہی کے لیے جواز کا حکم دیا ہے ؟اور یہاں بلاو مصیبت کے واسطے کیا جارہاہے ؟

    جواب نمبر: 603929

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 643-643/M=10/1442

     علماء نے قلب کی صفائی کے لئے جو اجتماعی ذکر جہری کی اجازت دی ہے اس سے مراد اِس انداز پر ذکر نہیں ہے کہ ایک شخص لا إلٰہ إلا اللہ کہہ کر ذکر شروع کرے اور پھر بقیہ لوگ اس کے بعد شروع کریں اور پانچ سات منٹ تک ایک آواز میں آواز ملاکر ایک ساتھ ذکر کرتے رہیں۔ پھر دوسرا ذکر شروع کرے اور اس میں بھی یہی کیفیت ہو، یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔ پس دفع بلا و مصیبت کے لیے یا دوکان و مکان کے افتتاح کے لیے بھی اس انداز پر ذکر جہری کا اہتمام ثابت نہیں، لہٰذا اس طریقے پر اجتماعی ذکر سے بچنا چاہئے۔ ہر غیر ثابت چیز کے لیے اگر اس کا ناجائز ہونا ضروری نہیں ہے تو اس کا جائز ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند