• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 603491

    عنوان:

    شادی میں video بنانے کا شرعی حکم اور شرکت کی گنجائش

    سوال: بعد سلام چند باتوں پر آپکی رہنمائی مطلوب ہے رہنمائی فرماکر شکریہ کہ موقع عنایت کریں ۱ ڈیجیٹل تصویر کی شرعی حیثیت کیا ۲ آج کل شادی کے موقع پر جو video بنائی جاتی ہے اسکا کیا حکم اور ایسی شادی میں شریک ہونا شرعا کیسا ہے اگر کوئی بندہ ایسی شادی میں شرکت نہ کرے تو حقوق العباد کی حق تلفی میں شمار کیا جائیگا یا نہیں اور جو علمائکرام ایسے شادیوں میں شرکت کرے تو انکا شرکت کرنا کیسا ہے ؟

    جواب نمبر: 603491

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:559-94T/N=8/1442

     (۱):اکابر علمائے دیوبند کی تحقیق یہی ہے کہ ڈیجیٹل تصاویر، عام تصاویر ہی کے حکم میں ہیں، یعنی: جان دار کی تصویر کشی کی ممانعت کی نصوص ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل دونوں قسم کی تصاویر کو شامل ہیں اور دونوں ناجائز ہیں۔

    عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ”أشد الناس عذاباً عند اللّٰہ المصورون“، متفق علیہ، وعن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول:”کل مصور فی النار یجعل لہ بکل صورة صورھا نفسا فیعذبہ فی جھنم“، قال ابن عباس:فإن کنت لا بد فاعلاً فاصنع الشجر وما لا روح فیہ“، متفق علیہ (مشکاة المصابیح، باب التصاویر، الفصل الأول،ص: ۳۸۵، ۳۸۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    وعن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”یخرج عنق من النار یوم القیامة لہا عینان تبصران وأذنان تسمعان ولسان ینطق، یقول:إنی وکلت بثلاثة:بکل جبار عنید وکل من دعا مع اللہ إلہا آخر وبالمصورین“رواہ الترمذي (المصدر السابق، الفصل الثاني، ص ۳۸۶)۔

    وعن سعید بن أبی الحسن قال:کنت عند ابن عباس إذ جاء ہ رجل، فقال:یا ابن عباس! إنی رجل إنما معیشتی من صنعة یدی،وإني أصنع ہذہ التصاویر، فقال ابن عباس:لاأحدثک إلا ما سمعت من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، سمعتہ یقول:”من صور صورة فإن اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیہ الروح ولیس بنافخ فیہا أبدا“فربا الرجل ربوة شدیدة واصفر وجہہ، فقال:ویحک إن أبیت إلا أن تصنع فعلیک بہذا الشجر وکل شی لیس فیہ روح“۔رواہ البخاري (المصدر السابق، الفصل الثالث)۔

    (۲):شادی وغیرہ کے موقعہ پر جو ویڈیو سازی ہوتی ہے، وہ بھی ناجائز ہے اور جس شادی میں پروگرام کی ویڈیو بنائی جارہی ہو، اس میں شریک ہونا بھی درست نہیں؛ البتہ اگر کھانے کی جگہ ویڈیو نہ بنائی جارہی ہو تو غیر مقتدا کے لیے ایسی شادی میں جاکر کھانا کھانے کی گنجائش ہے، اور مقتدا (علما، حفاظ، ائمہ مساجد وغیرہ) حضرات کے لیے ایسی شادی میں صرف کھانے کے لیے جانا بھی درست نہیں۔

    (دعي إلی ولیمة وثمة لعب أو غناء قعد وأکل) لو المنکر فی المنزل، فلو علی المائدة لا ینبغي أن یقعد؛ بل یخرج معرضاً لقولہ تعالی: ﴿فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین﴾، (فإن قدر علی المنع فعل وإلا) یقدر (صبر إن لم یکن ممن یقتدی بہ،فإن کان) مقتدیً (ولم یقدر علی المنع خرج ولم یقعد)؛لأن فیہ شین الدین، والمحکي عن الإمام کان قبل أن یصیر مقتدی، (وإن علم أولاً باللعب لا یحضر أصلاً) سواء کان ممن یقتدی بہ أو لا إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، ۹: ۵۰۱، ۵۰۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    قولہ:”لا ینبغي أن یقعد “أي: یجب علیہ ، ……وکذا إذا کان علی المائدة قوم یغتابون لا یقعد …… تاتر خانیة اھ ،……قولہ:”لا یحضر أصلا“: إلا إذا علم أنھم یترکون ذلک احتراماً لہ فعلیہ أن یذھب،إتقاني۔…۔ مفاد الحدیث …أنہ لا تلزم الإجابة مع المنکر أصلاً (رد المحتار)۔

    (۳):جی نہیں! جس شادی میں امر منکر ہو، اس میں شرکت نہ کرنا شرعاً ہرگز کسی کی حق تلفی نہیں ہے؛ بلکہ یہ شریعت کے عین مطابق ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند